سرحدِ غم کے پار جاتے ہوئے
رو دی میں اپنا بوجھ ڈھاتے ہوئے
اتنی خاموشی تھی مرے اندر
مطمئن خود کو کیا چلاتے ہوئے
نیند پھر لوٹ کر نہیں آئی
سو گئے تارے ٹمٹماتے ہوئے
وقتِ رخصت دروں قیامت تھی
لوٹ آئی میں مسکراتے ہوئے
میں نے مڑ کر اسے نہیں دیکھا
وہ بھی لوٹا نہیں ہے جاتے ہوئے
دفعتاً جی اٹھیں تمنائیں
شمعِ وصل کو جلاتے ہوئے
اپنی نادم وفا پہ تھا شاید
جا رہا تھا وہ ہچکچاتے ہوئے
ہجر بارِ گراں کشف ٹھہرا
اور بڑھتا گیا اٹھاتے ہوئے
کشف ناز
No comments:
Post a Comment