یہ کیسی مصلحت تھی روح تک کو کھا گئی تھی
جہاں ہم گِریہ کرتے تھے وہاں اب خامشی تھی
تمہاری سرد مہری سے دیے بجھنے لگے تھے
ہماری گرمجوشی پھر بھلا کس کام کی تھی
ہم اپنی منزلوں سے ہاتھ دھو کر رو رہے تھے
دلِ خوش فہم کو ہنسنے میں دقت ہو رہی تھی
ہمارے رنگ بے ڈھنگے مناظر کھا گئے تھے
ہمارے مقبروں پر چاندنی اُتری ہوئی تھی
میں تیرے نقشِ پا میں اپنی صورت دیکھتا تھا
مجھے آئینے کی عادل ضرورت کب پڑی تھی
عادل گوہر
No comments:
Post a Comment