Monday, 10 January 2022

یہ کیسی مصلحت تھی روح تک کو کھا گئی تھی

 یہ کیسی مصلحت تھی روح تک کو کھا گئی تھی

جہاں ہم گِریہ کرتے تھے وہاں اب خامشی تھی

تمہاری سرد مہری سے دیے بجھنے لگے تھے

ہماری گرمجوشی پھر بھلا کس کام کی تھی

ہم اپنی منزلوں سے ہاتھ دھو کر رو رہے تھے

دلِ خوش فہم کو ہنسنے میں دقت ہو رہی تھی

ہمارے رنگ بے ڈھنگے مناظر کھا گئے تھے

ہمارے مقبروں پر چاندنی اُتری ہوئی تھی

میں تیرے نقشِ پا میں اپنی صورت دیکھتا تھا

مجھے آئینے کی عادل ضرورت کب پڑی تھی


عادل گوہر

No comments:

Post a Comment