Showing posts with label صغیر ملال. Show all posts
Showing posts with label صغیر ملال. Show all posts

Sunday, 23 August 2020

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا، کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے

برائے نام سہی سائباں ضروری ہے

برائے نام سہی، سائباں ضروری ہے
زمین کے لیے اک آسماں ضروری ہے
تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر
ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے
ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے
کہاں وہ غیر ضروری، کہاں ضروری ہے

Friday, 21 August 2020

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں
وگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں
ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کو
ہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں
یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہے
یہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں

ازل سے لوگ خدا کو خدا نہیں کہتے

نہ جانے کیوں سدا ہوتا ہے ایک سا انجام
ہم ایک سی تو کہانی سدا نہیں کہتے
جدھر پہنچنا ہے آغاز بھی وہیں سے ہوا
سفر سمجھتے ہیں اس کو سزا نہیں کہتے
نیا شعور نئے استعارے لاتا ہے
ازل سے لوگ خدا کو خدا نہیں کہتے

Wednesday, 19 August 2020

جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا

پھر اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا
جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا
اک داستان گو ہوا ایسا کہ اپنے بعد
ساری کہانیوں کا وہ کردار ہو گیا
سایہ نہ دے سکا جسے دیوار کا وجود
اس کا وجود نقش بہ دیوار ہو گیا

جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی

جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی
اور آخر مِرے رستے میں بھی آیا ہے وہی
یہ الگ بات کہ ہم رات کو ہی دیکھ سکیں
ورنہ دن کو بھی ستاروں کا تماشا ہے وہی
اپنے موسم میں پسند آیا ہے کوئی چہرہ
ورنہ موسم تو بدلتے رہے چہرہ ہے وہی

وہ لوگ کون سے سورج سے جل رہے ہوں گے

نکل گئے ہیں جو صحرا میں اپنے اتنی دور
وہ لوگ کون سے سورج سے جل رہے ہوں گے
عدم کی نیند میں سوئے ہوئے کہاں ہیں وہ اب
جو کل وجود کی آنکھوں کو مل رہے ہوں گے
ملے نہ ہم کو جواب اپنے جن سوالوں کے
کسی زمانے میں ان کے بھی حل رہے ہوں گے

Tuesday, 18 February 2020

خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے

خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے
اور گہرائی میں اتروں تو دھواں ہوتا ہے
اتنی پیچیدگی نکلی ہے یہاں ہونے میں
اب کوئی چیز نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے
سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں
ہو تو سکتے ہیں، مگر ایسا کہاں ہوتا ہے؟

کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہے

کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہے
جبکہ ہر شخص یہاں آبلہ پا ہوتا ہے
دیکھنے والوں کی آنکھوں میں نمی تیرتی ہے
سوچنے والوں کے سینے میں خلا ہوتا ہے
لوگ اس شہر کو خوشحال سمجھ لیتے ہیں
رات کے وقت بھی جو جاگ رہا ہوتا ہے

فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا

فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا
پھر اس کے بعد سفر سب ستارہ وار کیا
بس اتنی دیر میں اعداد ہو گئے تبدیل
کہ جتنی دیر میں ہم نے انہیں شمار کیا
کبھی کبھی لگی ایسی زمین کی حالت
کہ جیسے اس کو زمانے نے سنگسار کیا