Friday, 21 August 2020

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں
وگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں
ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کو
ہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں
یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہے
یہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں
جو دربدر ہو وہ کیسے سنبھال سکتا ہے
تِری امانتیں جتنی ہیں میرے گھر میں ہیں
عجیب طرح کا رشتہ ہے پانیوں سے ملال
جدا جدا سہی سب ایک ہی بھنور میں ہیں

صغیر ملال

No comments:

Post a Comment