Friday, 21 August 2020

ازل سے لوگ خدا کو خدا نہیں کہتے

نہ جانے کیوں سدا ہوتا ہے ایک سا انجام
ہم ایک سی تو کہانی سدا نہیں کہتے
جدھر پہنچنا ہے آغاز بھی وہیں سے ہوا
سفر سمجھتے ہیں اس کو سزا نہیں کہتے
نیا شعور نئے استعارے لاتا ہے
ازل سے لوگ خدا کو خدا نہیں کہتے
جو گیت چنتے ہیں خاموشیوں کے صحرا سے
وہ لب کشاؤں کو راز آشنا نہیں کہتے
فضا کا لفظ ہے اس کے لیے الگ موجود
جو گھر ٹھہرتی ہے اس کو ہوا نہیں کہتے
زمانے بھر سے الجھتے ہیں جس کی جانب سے
اکیلے پن میں اسے ہم بھی کیا نہیں کہتے
جو دیکھ لیتے ہیں چیزوں کے آر پار ملال
کسی بھی چیز کو اتنا برا نہیں کہتے

صغیر ملال

No comments:

Post a Comment