ہم خاک تھے لیکن نہ قدم خاک پہ رکھا
جو گرد اڑائی اسے افلاک پہ رکھا
مٹھی تھی ہواؤں میں کہ مٹھی میں ہوا تھی
کیوں کارکسانی خس و خاشاک پہ رکھا
سیراب کیے ابر منافق نے مِرے کھیت
لہرانے لگی فصل تو چکماک پہ رکھا
ہم خاک تھے لیکن نہ قدم خاک پہ رکھا
جو گرد اڑائی اسے افلاک پہ رکھا
مٹھی تھی ہواؤں میں کہ مٹھی میں ہوا تھی
کیوں کارکسانی خس و خاشاک پہ رکھا
سیراب کیے ابر منافق نے مِرے کھیت
لہرانے لگی فصل تو چکماک پہ رکھا
تنہا کر کے مجھ کو صلیبِ سوال پہ چھوڑ دیا
میں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا
اک چنگاری اک جگنو اک آنسو اور اک پھول
جاتے ہوئے کیا کیا اس نے رومال پہ چھوڑ دیا
پارہ پارہ خوشبو چکراتی ہے کمرے میں
آگ جلا کے شیرہ اس نے ابال پہ چھوڑ دیا
خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے
تصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دے
ہم سے تو نہ ہو گی کبھی اس طرح محبت
جو حد سے گزرنے پہ گنہ گار بھی کر دے
اس بار بھی تاویل شب و روز نئی ہے
ممکن ہے وہ قائل مجھے اس بار بھی کر دے