Showing posts with label تفضیل احمد. Show all posts
Showing posts with label تفضیل احمد. Show all posts

Thursday, 8 May 2025

ہم خاک تھے لیکن نہ قدم خاک پہ رکھا

 ہم خاک تھے لیکن نہ قدم خاک پہ رکھا

جو گرد اڑائی اسے افلاک پہ رکھا

مٹھی تھی ہواؤں میں کہ مٹھی میں ہوا تھی

کیوں کارکسانی خس و خاشاک پہ رکھا

سیراب کیے ابر منافق نے مِرے کھیت

لہرانے لگی فصل تو چکماک پہ رکھا

Monday, 17 April 2023

تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیا

تنہا کر کے مجھ کو صلیبِ سوال پہ چھوڑ دیا

میں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا

اک چنگاری اک جگنو اک آنسو اور اک پھول

جاتے ہوئے کیا کیا اس نے رومال پہ چھوڑ دیا

پارہ پارہ خوشبو چکراتی ہے کمرے میں

آگ جلا کے شیرہ اس نے ابال پہ چھوڑ دیا

Sunday, 6 March 2022

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے

تصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دے

ہم سے تو نہ ہو گی کبھی اس طرح محبت

جو حد سے گزرنے پہ گنہ گار بھی کر دے

اس بار بھی تاویل شب و روز نئی ہے

ممکن ہے وہ قائل مجھے اس بار بھی کر دے