Sunday, 6 March 2022

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے

تصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دے

ہم سے تو نہ ہو گی کبھی اس طرح محبت

جو حد سے گزرنے پہ گنہ گار بھی کر دے

اس بار بھی تاویل شب و روز نئی ہے

ممکن ہے وہ قائل مجھے اس بار بھی کر دے

افلاک تلاشی میں ہوں اس برج کی خاطر

جو میرے خزانے کو فلک پار بھی کر دے

آہنگ تصور سے جو لرزش ہے رگوں میں

اس کو مِرے خامے کا سروکار بھی کر دے

وہ بیت جو مسدود میں روزن کا سبب ہیں

ان کو🌷گل آویزۂ دیوار بھی کر دے

قرطاس پہ تفضیل رواں جوئے کلی رنگ

شاید مِرے لفظوں کو مزیدار بھی کر دے


تفضیل احمد

No comments:

Post a Comment