پاگل سی ہو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
کیوں جانے رو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
سوچا ہے تجھ کو شب بھر، جاگی ہیں رات ساری
اب تھک کے سو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
خوابوں کا اب کہاں پر، جانے شجر اگے گا
کچھ بیج بو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
دل میں اذیتوں کے مٹنے کو ہیں نشاں اب
کچھ نقش دھو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
لیکن تِرا تصور خود میں بسا کے رکھا
برباد گو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
شاید کہ زندگی کا بجھنے کو ہے دیا پھر
لو دے یہ جو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
اشکوں کے نام پر اب تسبیح کے ہیں دانے
موتی پرو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
پہچانتی نہیں ہیں، سو اب کسی کا چہرہ
انجان جو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
طاہر پہ عکس ان کا تجسیم کب ہوا ہے
ویران تو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
طاہر حنفی
No comments:
Post a Comment