Showing posts with label مظفر علی سید. Show all posts
Showing posts with label مظفر علی سید. Show all posts

Friday, 23 December 2022

کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک

 کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک

جز خاک نہیں کوئی یہاں چارہ گر خاک

ملتی ہے شرابوں کی جگہ گرد بیاباں

میخانے کو جاتے ہیں تو کھلتا ہے در‌ خاک

صحرا کو گلستان بڑے شوق سے کہہ لو

یعنی شجر خاک سے توڑو ثمر خاک

Sunday, 18 December 2022

ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل

 ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل 

تِرے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل 

نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات 

کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل 

کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے 

پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل 

Thursday, 15 December 2022

بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو

 بہت نحیف ہے طرزِ فغاں بدل ڈالو 

نظامِ دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو 

دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول 

مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو 

نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ 

یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو 

Monday, 12 December 2022

سید تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں

 سید تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں

ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں

موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے

کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں

اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی

اس کو کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ خبر نہیں

Sunday, 11 December 2022

قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

 قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

قیدِ صدف میں مثلِ گہر رقص کیجیے

کیجے فسردگیٔ طبیعت کا کچھ علاج

اس خاکداں میں مثلِ شرر رقص کیجیے

اک نوجواں نے آج بزرگوں سے کہہ دیا

ہوتی نہیں جو عمر بسر، رقص کیجیے