کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک
جز خاک نہیں کوئی یہاں چارہ گر خاک
ملتی ہے شرابوں کی جگہ گرد بیاباں
میخانے کو جاتے ہیں تو کھلتا ہے در خاک
صحرا کو گلستان بڑے شوق سے کہہ لو
یعنی شجر خاک سے توڑو ثمر خاک
کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک
جز خاک نہیں کوئی یہاں چارہ گر خاک
ملتی ہے شرابوں کی جگہ گرد بیاباں
میخانے کو جاتے ہیں تو کھلتا ہے در خاک
صحرا کو گلستان بڑے شوق سے کہہ لو
یعنی شجر خاک سے توڑو ثمر خاک
ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
تِرے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل
نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات
کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل
کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے
پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل
بہت نحیف ہے طرزِ فغاں بدل ڈالو
نظامِ دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو
دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو
نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو
سید تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں
ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں
موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے
کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں
اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی
اس کو کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ خبر نہیں
قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے
قیدِ صدف میں مثلِ گہر رقص کیجیے
کیجے فسردگیٔ طبیعت کا کچھ علاج
اس خاکداں میں مثلِ شرر رقص کیجیے
اک نوجواں نے آج بزرگوں سے کہہ دیا
ہوتی نہیں جو عمر بسر، رقص کیجیے