Showing posts with label اقبال خاور. Show all posts
Showing posts with label اقبال خاور. Show all posts

Wednesday, 19 October 2022

یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے

 یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے

ہم کو کہاں قرار تھا؟ تم سے ملے، سنبھل گئے

دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب

آنکھ ذرا سی نم ہوئی، اس کی طرف نکل گئے

یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں

تم جو کبھی بدل گئے، ہم جو کبھی بدل گئے

Wednesday, 15 September 2021

کیا برا ہے اگر برا ہوں میں

 کیا بُرا ہے اگر بُرا ہوں میں

آدمی ہوں کوئی خدا ہوں میں

اپنے بارے میں بات کر کوئی

ہاں مجھے چھوڑ مسئلہ ہوں میں

دل تقاضے تو ایسے کرتا ہے

جیسے دنیا کا ہو گیا ہوں میں

Thursday, 1 July 2021

مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں

مزاجِ شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں

ہم اپنے آپ کو دِلگیر کرنے نکلے ہیں

نکل کے خواب سرا سے بُجھا کے چشمِ گماں

خیال و خواب کو تعبیر کرنے نکلے ہیں

سجا کے آنکھ میں وحشت، بدن پہ ویرانی

تِرے جمال کی تشہیر کرنے نکلے ہیں

Sunday, 27 June 2021

گلی گلی تری شہرت نہیں کروں گا میں

گلی گلی تِری شہرت نہیں کروں گا میں

اب ایسی ہجر میں حالت نہیں کروں گا میں

ہمیشہ کام بگاڑا ہے بے قراری نے

وہ اب ملے گا تو عجلت نہیں کروں گا میں

تُو پاس بیٹھ مِرے مجھ سے بات کر کوئی 

قسم خدا کی، شرارت نہیں کروں گا میں 

Monday, 29 March 2021

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں

یعنی، تم اس جہاں کے تھے ہی نہیں

کیسے اُلجھے ہیں کارِ دنیا میں

ہم جو سُود و زیاں کے تھے ہی نہیں

میں تو اک وحشتِ دِگر میں تھا

مسئلے جسم و جاں کے تھے ہی نہیں