یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے
ہم کو کہاں قرار تھا؟ تم سے ملے، سنبھل گئے
دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب
آنکھ ذرا سی نم ہوئی، اس کی طرف نکل گئے
یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں
تم جو کبھی بدل گئے، ہم جو کبھی بدل گئے
یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے
ہم کو کہاں قرار تھا؟ تم سے ملے، سنبھل گئے
دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب
آنکھ ذرا سی نم ہوئی، اس کی طرف نکل گئے
یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں
تم جو کبھی بدل گئے، ہم جو کبھی بدل گئے
کیا بُرا ہے اگر بُرا ہوں میں
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں میں
اپنے بارے میں بات کر کوئی
ہاں مجھے چھوڑ مسئلہ ہوں میں
دل تقاضے تو ایسے کرتا ہے
جیسے دنیا کا ہو گیا ہوں میں
مزاجِ شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں
ہم اپنے آپ کو دِلگیر کرنے نکلے ہیں
نکل کے خواب سرا سے بُجھا کے چشمِ گماں
خیال و خواب کو تعبیر کرنے نکلے ہیں
سجا کے آنکھ میں وحشت، بدن پہ ویرانی
تِرے جمال کی تشہیر کرنے نکلے ہیں
گلی گلی تِری شہرت نہیں کروں گا میں
اب ایسی ہجر میں حالت نہیں کروں گا میں
ہمیشہ کام بگاڑا ہے بے قراری نے
وہ اب ملے گا تو عجلت نہیں کروں گا میں
تُو پاس بیٹھ مِرے مجھ سے بات کر کوئی
قسم خدا کی، شرارت نہیں کروں گا میں
تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں
یعنی، تم اس جہاں کے تھے ہی نہیں
کیسے اُلجھے ہیں کارِ دنیا میں
ہم جو سُود و زیاں کے تھے ہی نہیں
میں تو اک وحشتِ دِگر میں تھا
مسئلے جسم و جاں کے تھے ہی نہیں