گھر گیا آ کر دکانداروں سے ہی تکرار میں
جانے کیا آیا تھا لینے گھر سے میں بازار میں
ناز تھا اس کو وفا پر،۔ ناز مجھ کو پیار پر
وصل کی تھی رات ساری کٹ گئی تکرار میں
آپ کا دے کر حوالہ کہتے ہیں ہم ناز سے
کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں آج کل سرکار میں
میٹھا میٹھا درد تھا اس دھیمی دھیمی آنچ میں
لطف اک آیا الگ ہی پہلے پہلے پیار میں
کیا خبر لفظوں کا مطلب کب بدل جائے سلیل
کیا خبر رکھ دے کوئی انکار کب اقرار میں
کلدیپ سلیل
کلدیپ سلل
No comments:
Post a Comment