Sunday, 16 August 2026

محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

 محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے

کسے معلوم میرے دل کی حالت

تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے

متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی

تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے

ہمیشہ بزم میں واعظ کے ہوتے

پراگندہ فضا ہوتی رہی ہے

وفا اپنی فریبِ عاشقی تھی

جفا ان کی ادا ہوتی رہی ہے

جہاں پڑھنے گئے نیرنگ وہاں پر

غزل پر واہ وا ہوتی رہی ہے 


نند لال نیرنگ سرحدی

مندھرا، ڈیرہ اسماعیل خان، ریواڑی گوڑگاؤں

No comments:

Post a Comment