Tuesday, 18 August 2026

ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

 ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں

کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں

کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں

تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں

میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں

یہیں کہیں تِری نظروں سے گر کے بکھروں گا

میں شاخ سبز ابھی موسم بہار میں ہوں

صدائے ابر ادھر بھی کوئی کہ تیرے لیے

میں پا بجولاں بہت دشت بے کنار میں ہوں

فرار چاہوں تو جو کچھ ہے سب گنوا بیٹھوں

کچھ اس طرح تِری آواز کے حصار میں ہوں

الگ نہ دیکھ بہت زرد زرد پھولوں سے

نظر اٹھا کہ میں چاروں طرف بہار میں ہوں

میں حرف حرف تجھے جسم و جاں میں لے جاؤں

کہ رنگ رنگ تِری لوٹتی بہار میں ہوں

بکھر چکا ہے وہ اجمل صدائیں دے کے مجھے

کہ میں اسیر ہواؤں کے کار زار میں ہوں


نسیم اجمل

No comments:

Post a Comment