Tuesday, 4 August 2026

وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

 وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

رخ حیات پہ جیسے عذاب چھوڑ گیا

نتیجہ کوشش پیہم کا یوں ہوا الٹا

میں آسمان پہ موج سراب چھوڑ گیا

وہ کون تھا جو مِری زندگی کے دفتر سے

حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا

بہار بن کے وہ آیا گیا بھی شان کے ساتھ

کہ زرد پتوں پہ رنگ گلاب چھوڑ گیا

مِرے لہو میں جو آیا تھا میہماں بن کر

مِری رگوں میں وہ اک آفتاب چھوڑ گیا

گیا تو ساتھ وہ لیتا گیا ہر اک نغمہ

خلا کی گود میں ٹُوٹا رباب چھوڑ گیا

ملا نہ جذبۂ تشکیک کو لباس کوئی

وہ ہر سوال کا ایسا جواب چھوڑ گیا

بکھیرتا ہے کرامت جو درد کی کرنیں

وہ خواب ذہن میں اک ماہتاب چھوڑ گیا


کرامت علی کرامت

No comments:

Post a Comment