عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنی عجیب دیکھیے شانِ رسولﷺ بھی
برسائے جس نے سب پہ ہی رحمت کے پھول بھی
جب بھی چلا ہوں جانبِ کعبہ، تو دشت کا
میرے لیے تو پھُول بنا تھا، ببُول بھی
دُنیا کو کرتے اب بھی حقیقت سے رُوشناس
انمول گیان دیتے ہیں انﷺ کے اصول بھی
جس کی زباں پہ نام نبیﷺ گُونجتا رہا
اللہ نے درگزر کی ہے اس کی تو بھُول بھی
دولت ہے جس کے پاس یہ ایماں کی دوستو
اس سے خوش ہوئے ہیں دیکھو رسولﷺ بھی
رنج و الم کی یورشیں کافُور ہو گئیں
کُھل کُھل گئے ہیں جا کے وہاں پر ملُول بھی
دیدار کی تو بات ہی پرویز اور ہے
مجھ کو تو ہے قبول مدینے کی دُھول بھی
کرشن پرویز
ہری کرشن تھاپر
No comments:
Post a Comment