دیا بجھانے میں یہ روشنی بھی لگ گئی ہے
ہمارے زخم کو عادت ہوا کی لگ گئی ہے
کسے بتائیں کے ہم بے سبب اداس ہوئے
کسے بتائیں کہ اب اس کی لت بھی لگ گئی ہے
جو بولتے ہوئے تھکتا نہیں وہ شخص تھا میں
تمہارے بعد تو جیسے کے چپ سی لگ گئی ہے
دیا بجھانے میں یہ روشنی بھی لگ گئی ہے
ہمارے زخم کو عادت ہوا کی لگ گئی ہے
کسے بتائیں کے ہم بے سبب اداس ہوئے
کسے بتائیں کہ اب اس کی لت بھی لگ گئی ہے
جو بولتے ہوئے تھکتا نہیں وہ شخص تھا میں
تمہارے بعد تو جیسے کے چپ سی لگ گئی ہے
تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا
تو آگے بڑھ گیا میں وہیں کا وہیں رہا
دل ایسا چُور چُور ہوا تیرے بعد پھر
نہ تو مکاں رہا نہ ہی کوئی مکیں رہا
وہ ایک زخم جس کو بھرا ہے تمام عمر
وہ زخم اس بدن میں کہیں تہہ نشیں رہا
ایسے کٹھن سمے میں بھی وہ میرے ساتھ تھی
میرے مقابلے پہ جب اک کائنات تھی
کھیلے بہت سے کھیل میں نے زندگی میں پر
ہر کھیل میں لکھی ہوئی میری ہی مات تھی
شہرِ دل اب ہوا ہے بیابان کی طرح
کہ جیسے تیرا جانا کوئی واردات تھی
قاصد کے ہاتھ مجھ کو یہ پیغام ملتا ہے
اب وہ کسی سے روز سرِ شام ملتا ہے
بیکار کوششیں ہیں تجھے بھولنے کی دوست
مجھ کو ہر اک جگہ تِرا ہم نام ملتا ہے
ہم دونوں اپنی اپنی کہانی میں مر گئے
حالات مختلف تھے پر انجام ملتا ہے
آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے
یہ دل تجھے بھلانے میں تھوڑا بخیل ہے
ہوتی تھی تیرے ساتھ ہی محسوس زندگی
کہ تیرا ہونا زندگی کی اک دلیل ہے
تصویر تیری دل میں لگائی ہوئی ہے اور
میری گلے میں اٹکی ہوئی اس کی کیل ہے