Showing posts with label کونین حیدر. Show all posts
Showing posts with label کونین حیدر. Show all posts

Tuesday, 1 March 2022

دیا بجھانے میں یہ روشنی بھی لگ گئی ہے

 دیا بجھانے میں یہ روشنی بھی لگ گئی ہے

ہمارے زخم کو عادت ہوا کی لگ گئی ہے

کسے بتائیں کے ہم بے سبب اداس ہوئے

کسے بتائیں کہ اب اس کی لت بھی لگ گئی ہے

جو بولتے ہوئے تھکتا نہیں وہ شخص تھا میں

تمہارے بعد تو جیسے کے چپ سی لگ گئی ہے

Tuesday, 1 February 2022

تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا

 تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا

تو آگے بڑھ گیا میں وہیں کا وہیں رہا

دل ایسا چُور چُور ہوا تیرے بعد پھر

نہ تو مکاں رہا نہ ہی کوئی مکیں رہا

وہ ایک زخم جس کو بھرا ہے تمام عمر

وہ زخم اس بدن میں کہیں تہہ نشیں رہا

Saturday, 8 January 2022

ایسے کٹھن سمے میں بھی وہ میرے ساتھ تھی

 ایسے کٹھن سمے میں بھی وہ میرے ساتھ تھی

میرے مقابلے پہ جب اک کائنات تھی

کھیلے بہت سے کھیل میں نے زندگی میں پر

ہر کھیل میں لکھی ہوئی میری ہی مات تھی

شہرِ دل اب ہوا ہے بیابان کی طرح

کہ جیسے تیرا جانا کوئی واردات تھی

Friday, 7 January 2022

قاصد کے ہاتھ مجھ کو یہ پیغام ملتا ہے

 قاصد کے ہاتھ مجھ کو یہ پیغام ملتا ہے

اب وہ کسی سے روز سرِ شام ملتا ہے

بیکار کوششیں ہیں تجھے بھولنے کی دوست

مجھ کو ہر اک جگہ تِرا ہم نام ملتا ہے

ہم دونوں اپنی اپنی کہانی میں مر گئے

حالات مختلف تھے پر انجام ملتا ہے

Monday, 18 October 2021

آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے

 آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے

یہ دل تجھے بھلانے میں تھوڑا بخیل ہے

ہوتی تھی تیرے ساتھ ہی محسوس زندگی

کہ تیرا ہونا زندگی کی اک دلیل ہے

تصویر تیری دل میں لگائی ہوئی ہے اور

میری گلے میں اٹکی ہوئی اس کی کیل ہے