قاصد کے ہاتھ مجھ کو یہ پیغام ملتا ہے
اب وہ کسی سے روز سرِ شام ملتا ہے
بیکار کوششیں ہیں تجھے بھولنے کی دوست
مجھ کو ہر اک جگہ تِرا ہم نام ملتا ہے
ہم دونوں اپنی اپنی کہانی میں مر گئے
حالات مختلف تھے پر انجام ملتا ہے
چلنا سنبھل کے شہرِ محبت میں کہ یہاں
ہر ایک گام پر کوئی بدنام ملتا ہے
مجھ کو وہ عشق کرنا نہیں ہے مِرے عزیز
بستی میں آج کل جو سرِ عام ملتا ہے
اہلِ جنوں وہ لوگ ہیں بیزاری میں جنھیں
اکثر ہی درد ہونے سے آرام ملتا ہے
کونین تیرے جیسی طبیعت نہیں ملی
ایسے بہت ہیں جن سے تِرا نام ملتا ہے
کونین حیدر
No comments:
Post a Comment