Friday, 7 January 2022

دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے

 دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے

یا انہیں جو آپ اپنی روشنی میں جل بجھے

حسن ہو جاتا ہے جس لمحے ضرورت کا اسیر

ایک ہو جاتے ہیں اس دم خیر و شر کے دائرے

سب ہوا کے رخ پر اڑتے برگ کے ہیں ہمنوا

کون لے اس کی خبر رہتا ہے جو پتھر تلے

روشنی درکار ہے تو خود ہی روزن وا کرو

منتظر کب تک رہو گے تم ہوائے تیز کے

کوئی تو ہوتا جو خونِ فن کی قیمت جانتا

دوست ناشر سے تو اب تک عذر نامے ہی ملے


ادیب سہیل

No comments:

Post a Comment