Friday, 7 January 2022

بدن یہ جس کے لئے شام جیسا سایہ ہے

 بدن یہ جس کے لیے شام جیسا سایا ہے

وہ شخص آج بھی میرے لیے پرایا ہے

فضا میں آج پرندوں کی چہچہاہٹ ہے

عجب سا شور درختوں نے بھی مچایا ہے

گزشتہ دور کی لیلیٰ سے مختلف ہوں میں

کہ میں نے عشق کمایا ہے، گھر بسایا ہے

یہ میرا خاکی بدن لے رہا ہے اکھڑی سانس

سو میں نے بھیجا ہے قاصد، اُسے بلایا ہے

رہے گا وہ تو مِرے خوابوں کی حفاظت میں

چراغ آخری جو نیند میں جلایا ہے


ثمینہ ثاقب

No comments:

Post a Comment