بدن یہ جس کے لیے شام جیسا سایا ہے
وہ شخص آج بھی میرے لیے پرایا ہے
فضا میں آج پرندوں کی چہچہاہٹ ہے
عجب سا شور درختوں نے بھی مچایا ہے
گزشتہ دور کی لیلیٰ سے مختلف ہوں میں
کہ میں نے عشق کمایا ہے، گھر بسایا ہے
یہ میرا خاکی بدن لے رہا ہے اکھڑی سانس
سو میں نے بھیجا ہے قاصد، اُسے بلایا ہے
رہے گا وہ تو مِرے خوابوں کی حفاظت میں
چراغ آخری جو نیند میں جلایا ہے
ثمینہ ثاقب
No comments:
Post a Comment