نصیب رکھ دوں میں اندھی رُتوں کے دھاروں پر
تمام عمر گزاروں تِرے اشاروں پر
ہمارا کرب بہت مختلف ہے لوگوں سے
ہم ایسے لوگ ہیں ڈوبے ہیں جو کناروں پر
میں سوگواری کی تجسیم کر بھی سکتی ہوں
میں وہ دیا ہوں جو جلتا رہا مزاروں پر
نصیب رکھ دوں میں اندھی رُتوں کے دھاروں پر
تمام عمر گزاروں تِرے اشاروں پر
ہمارا کرب بہت مختلف ہے لوگوں سے
ہم ایسے لوگ ہیں ڈوبے ہیں جو کناروں پر
میں سوگواری کی تجسیم کر بھی سکتی ہوں
میں وہ دیا ہوں جو جلتا رہا مزاروں پر
ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی
تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی
سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا
تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی
تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو
حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی
میں اس کی آنکھوں میں پانی کو دیکھ سکتی ہوں
مجھے یقین ہے اب وہ سدھرنے والا ہے
یہی دلاسہ میں دیتی ہوں رات بھر خود کو
کہ تھوڑی دیر میں سورج ابھرنے والا ہے
یہ جس حساب سے وعدہ خلافی کر رہا ہے
بہت ہی جلد وہ دل سے اترنے والا ہے
سمندروں کے جو قصے مجھے سنا رہے ہو
مِرے جنوں کو نیا راستہ دکھا رہے ہو
جواب مانگا ہے تم سے بدلتے لہجے کا
یہ میرے شعر مجھے کس لیے سنا رہے ہو
میں بجھ گئی ہوں تو اس کا سبب بھی جانتے ہو
کہ سوگ بجھنے کا ایسے ہی بس منا رہے ہو
جسے میں پیار سمجھتی ہوں دل لگی تو نہیں
میں ڈر رہی ہوں کہ جذبہ یہ عارضی تو نہیں
تمہاری بات تمہاری ہو ہر حوالے سے
نئی زمین تراشو،۔ یہ لازمی تو نہیں
ادھورے خواب، شکایت، کسک، تڑپ، الجھن
کسی بھی چیز کی دامن میں کچھ کمی تو نہیں
ناکردہ گناہ
مکمل عورت وہ ہوتی ہے
جس کا رابطہ و واسطہ فقط اپنے ساتھ ہوتا ہے
تمہاری آنکھوں میں خود کو پورا دیکھنے والی
ادھوری عورت ہوں میں
میری اور تنہائی کی خوب بنتی ہے
مماثلت
پت جھڑ میں
ڈھلتی ہوئی شام میں جھڑنے والے
زرد پتے
میرے زرد چہرے سے
مماثلت رکھتے ہیں
کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے
ہمارے بیچ ہوا بھر بھی فاصلہ نہ رہے
دعائیں کر کہ ہمیں بد دعا یہ لگ جائے
ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی تِرے سوا نہ رہے
تُو چاہتا ہے کہ تجھ سے میں فاصلے رکھوں
تُو چاہتا ہے کہ خوشبو سے واسطہ نہ رہے
ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی
تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی
سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا
تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی
تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو
حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی