Showing posts with label آسیہ شوکت. Show all posts
Showing posts with label آسیہ شوکت. Show all posts

Tuesday, 16 November 2021

نصیب رکھ دوں میں اندھی رتوں کے دھاروں پر

 نصیب رکھ دوں میں اندھی رُتوں کے دھاروں پر

تمام عمر گزاروں تِرے اشاروں پر

ہمارا کرب بہت مختلف ہے لوگوں سے 

ہم ایسے لوگ ہیں ڈوبے ہیں جو کناروں پر

میں سوگواری کی تجسیم کر بھی سکتی ہوں 

میں وہ دیا ہوں جو جلتا رہا مزاروں پر

Tuesday, 9 November 2021

ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

 ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی

سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا

تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی

تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو

حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی

Sunday, 7 November 2021

میں اس کی آنکھوں میں پانی کو دیکھ سکتی ہوں

 میں اس کی آنکھوں میں پانی کو دیکھ سکتی ہوں

مجھے یقین ہے اب وہ سدھرنے والا ہے

یہی دلاسہ میں دیتی ہوں رات بھر خود کو

کہ تھوڑی دیر میں سورج ابھرنے والا ہے

یہ جس حساب سے وعدہ خلافی کر رہا ہے

بہت ہی جلد وہ دل سے اترنے والا ہے

Tuesday, 2 November 2021

سمندروں کے جو قصے مجھے سنا رہے ہو

 سمندروں کے جو قصے مجھے سنا رہے ہو

مِرے جنوں کو نیا راستہ دکھا رہے ہو

جواب مانگا ہے تم سے بدلتے لہجے کا

یہ میرے شعر مجھے کس لیے سنا رہے ہو

میں بجھ گئی ہوں تو اس کا سبب بھی جانتے ہو

کہ سوگ بجھنے کا ایسے ہی بس منا رہے ہو

Sunday, 31 October 2021

جسے میں پیار سمجھتی ہوں دل لگی تو نہیں

 جسے میں پیار سمجھتی ہوں دل لگی تو نہیں

میں ڈر رہی ہوں کہ جذبہ یہ عارضی تو نہیں

تمہاری بات تمہاری ہو ہر حوالے سے

نئی زمین تراشو،۔ یہ لازمی تو نہیں

ادھورے خواب، شکایت، کسک، تڑپ، الجھن

کسی بھی چیز کی دامن میں کچھ کمی تو نہیں

Saturday, 30 October 2021

ناکردہ گناہ مکمل عورت وہ ہوتی ہے

 ناکردہ گناہ


مکمل عورت وہ ہوتی ہے

جس کا رابطہ و واسطہ فقط اپنے ساتھ ہوتا ہے

تمہاری آنکھوں میں خود کو پورا دیکھنے والی

ادھوری عورت ہوں میں

میری اور تنہائی کی خوب بنتی ہے

Friday, 29 October 2021

پت جھڑ میں ڈھلتی ہوئی شام میں

 مماثلت


پت جھڑ میں

ڈھلتی ہوئی شام میں جھڑنے والے

زرد پتے 

میرے زرد چہرے سے

مماثلت رکھتے ہیں

Monday, 2 August 2021

کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے

 کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے

ہمارے بیچ ہوا بھر بھی فاصلہ نہ رہے

دعائیں کر کہ ہمیں بد دعا یہ لگ جائے

ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی تِرے سوا نہ رہے

تُو چاہتا ہے کہ تجھ سے میں فاصلے رکھوں

تُو چاہتا ہے کہ خوشبو سے واسطہ نہ رہے

Friday, 16 April 2021

ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

 ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی

سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا

تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی

تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو

حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی