Monday, 2 August 2021

کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے

 کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے

ہمارے بیچ ہوا بھر بھی فاصلہ نہ رہے

دعائیں کر کہ ہمیں بد دعا یہ لگ جائے

ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی تِرے سوا نہ رہے

تُو چاہتا ہے کہ تجھ سے میں فاصلے رکھوں

تُو چاہتا ہے کہ خوشبو سے واسطہ نہ رہے

کبھی کبھی تو تجھے بد دعا بھی دیتی ہوں

مِرے علاوہ تِرا کوئی راستہ نہ رہے

ہر ایک ہاتھ نے پتھر اٹھا لیے آسی

قریب ہے کہ زمانے میں آئینہ نہ رہے


آسیہ شوکت آسی

No comments:

Post a Comment