سراپا
تیرا چہرہ پھول کے جیسے لگتا ہے
تیری آنکھیں
سرخ شرابوں جیسی ہیں
تیرے ہونٹ ملائم
پھول کی پتی سے
تیری باتیں
میر کے شعروں جیسی ہیں
مشکل میں
معصوم دعاؤں جیسے ہو
صحرا میں
گھنگھور گھٹاؤں جیسے ہو
سانس اکھڑتی ہے جب
حبس کے موسم میں
تم بارش کی پہلی بوند کے جیسے ہو
اظہر عروج
No comments:
Post a Comment