ہے اختیار میں تیرے تو معجزہ کر دے
وہ شخص میرا نہیں ہے اسے میرا کر دے
یہ ریگ زار کہیں ختم ہی نہیں ہوتا
ذرا سی دور تو رستہ ہرا بھرا کر دے
میں اس کے جور کو دیکھوں وہ میرا صبر و سکوں
مجھے چراغ بنا دے، اسے ہوا کر دے
ہے اختیار میں تیرے تو معجزہ کر دے
وہ شخص میرا نہیں ہے اسے میرا کر دے
یہ ریگ زار کہیں ختم ہی نہیں ہوتا
ذرا سی دور تو رستہ ہرا بھرا کر دے
میں اس کے جور کو دیکھوں وہ میرا صبر و سکوں
مجھے چراغ بنا دے، اسے ہوا کر دے
منزل نا دے چراغ نا دے حوصلہ تو دے
تنکے کا ہی سہی تُو مگر حوصلہ تو دے
میں نے یہ کب کہا کہ میرے حق میں ہو جا
لیکن خاموش کیوں ہے تُو کوئی فیصلہ تو دے
برسوں میں تیرے نام پر کھاتا رہا فریب
میرے خدا! کہاں ہے تُو؟ اپنا پتہ تو دے
مجھ سے واقف تو میرے جسم کا سایہ بھی نہ تھا
کیسے ہو جاتا تمہارا، میں خود اپنا بھی نہ تھا
جتنا مایوس ہے وہ شخص بچھڑ کر مجھ سے
اتنی شدت سے تو میں نے اسے چاہا بھی نہ تھا
جیسے الزام لگائے ہیں میرے سر اس نے
ایسی نظروں سے تو میں نے اسے دیکھا بھی نہ تھا