Showing posts with label رعنا سحری. Show all posts
Showing posts with label رعنا سحری. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

ہے اختیار میں تیرے تو معجزہ کر دے

ہے اختیار میں تیرے تو معجزہ کر دے 

وہ شخص میرا نہیں ہے اسے میرا کر دے 

یہ ریگ زار کہیں ختم ہی نہیں ہوتا 

ذرا سی دور تو رستہ ہرا بھرا کر دے 

میں اس کے جور کو دیکھوں وہ میرا صبر و سکوں

مجھے چراغ بنا دے، اسے ہوا کر دے

Friday, 12 November 2021

منزل نہ دے چراغ نہ دے حوصلہ تو دے

منزل نا دے چراغ نا دے حوصلہ تو دے

تنکے کا ہی سہی تُو مگر حوصلہ تو دے

میں نے یہ کب کہا کہ میرے حق میں ہو جا

لیکن خاموش کیوں ہے تُو کوئی فیصلہ تو دے

برسوں میں تیرے نام پر کھاتا رہا فریب

میرے خدا! کہاں ہے تُو؟ اپنا پتہ تو دے

Friday, 5 November 2021

مجھ سے واقف تو میرے جسم کا سایہ بھی نہ تھا

مجھ سے واقف تو میرے جسم کا سایہ بھی نہ تھا 

کیسے ہو جاتا تمہارا، میں خود اپنا بھی نہ تھا

جتنا مایوس ہے وہ شخص بچھڑ کر مجھ سے

اتنی شدت سے تو میں نے اسے چاہا بھی نہ تھا

جیسے الزام لگائے ہیں میرے سر اس نے

ایسی نظروں سے تو میں نے اسے دیکھا بھی نہ تھا 

Wednesday, 28 October 2015

کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے

گیت

کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے
وہ عشق تھا، وہ جنوں تھا
یہ جو ہجر ہے، یہ نصیب ہے
یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے

کبھی غنچہ کبھی شعلہ کبھی شبنم کی طرح

گیت 

کبھی غنچہ، کبھی شعلہ، کبھی شبنم کی طرح
لوگ یہاں بدلتے ہیں کسی موسم کی طرح 
میرے محبوب! مِرے پیار کو الزام نہ دو
ہجر میں عید منائی ہے محرم کی طرح
میں نے خوشبو کی طرح تجھ کو کیا ہے محسوس
دل نے چھیڑا ہے تِری یاد کو شبنم کی طرح