Friday, 12 November 2021

منزل نہ دے چراغ نہ دے حوصلہ تو دے

منزل نا دے چراغ نا دے حوصلہ تو دے

تنکے کا ہی سہی تُو مگر حوصلہ تو دے

میں نے یہ کب کہا کہ میرے حق میں ہو جا

لیکن خاموش کیوں ہے تُو کوئی فیصلہ تو دے

برسوں میں تیرے نام پر کھاتا رہا فریب

میرے خدا! کہاں ہے تُو؟ اپنا پتہ تو دے

بے شک میرے نصیب میں رکھوں اپنا اختیار

لیکن میرے نصیب میں کیا ہے یہ بتا تو دے


رعنا سحری

No comments:

Post a Comment