Friday, 12 November 2021

آخری سمت میں بچھی بساط

 آخری سمت میں بچھی بساط


ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پر

اے مات کے خواہاں

کبھی کھینچیں گے ہم باگیں

جنونی سر پھری اندھی ہواؤں کی

اڑائیں گے فلک پر

چاند تاروں سے بنے رتھ کو

پھر آئیں گے تجھے ہم راہ کرنے

سرمئی دھندلے جزیروں سے

سنہری آس رنگی سر زمیں تک

نئے مہروں سے پھر اپنا

پرانا کھیل کھلیں گے

تری ہر مات کی ہر چال کو

شہ مات دیکھیں گے


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment