Friday, 12 November 2021

صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں

 صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں

بہار آئے تو ہم بھی جنوں میں نام کریں

نہ کوئی ریت کا ٹیلہ نہ سایہ دار درخت

رہِ وفا میں مسافر کہاں قیام کریں

قدم قدم پہ ملے بولتے ہوئے پتھر

تمہی بتاؤ کہ اب کس سے ہم کلام کریں

مہک اڑاتی ہوئی آئی ہے نسیم بہار

کہو اب اہل چمن سے کہ فکر دام کریں

ہماری راہ میں دیوار بن گئی دنیا

تمہارے شہر میں کس کس کو ہم سلام کریں

وہ جن کے دم سے زمانے کے خواب رنگیں ہیں

ہماری نیند بھی آ کر کبھی حرام کریں

دھواں دھواں سی فضا شہرِ دل کی ہے پرواز

نئے چراغ جلانے کا انتظام کریں


الطاف پرواز

No comments:

Post a Comment