Showing posts with label شائستہ یوسف. Show all posts
Showing posts with label شائستہ یوسف. Show all posts

Monday, 28 June 2021

ذہن اک آتش فشاں ہے

 نجات


ذہن اک آتش فشاں ہے

جس میں منظر اور نغمے کا

باتوں کا، یادوں کا

ایسا لاوا ہے

جس کی کوئی شکل نہیں

Sunday, 27 June 2021

میرے سرہانے جو کتبہ ہے

 تم سے صدیوں کا پیار کروں


میرے سرہانے جو کتبہ ہے

اس پر تم نے اتنا پیارا شعر لکھوایا ہے

جو بھی پڑھے اس قبر میں سونا چاہے

جب تم آ کر پھول چڑھاتے ہو

(خود کی پوجا کرواتے ہو)

لاعلم میری خانقاہ میں لوگوں کا ہجوم

 لاعلم


میری خانقاہ میں

لوگوں کا ہجوم

میری مسافت سے

لوٹنے کا منتظر تھا ملکیت کا نشہ

سرور کی موسیقی بکھیر رہا تھا

Saturday, 26 June 2021

سپیرا روزانہ مجھے سانپ سے ڈسواتا ہے

 واپسی


سپیرا روزانہ

مجھے سانپ سے ڈسواتا ہے

اور تماشائی

دلچسپی سے کھیل کے

دوسرے حصے کا

انتظار کرتے ہیں

Saturday, 17 April 2021

تمہیں عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا

 ماہر عشق


تمہیں

عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا

بیٹھے رہتے ہو

انگلیوں میں لیے سگریٹ

میں تم سے بات کرنے لگتی ہوں تو

دھواں تمہارے حلق میں جانے کی بجائے

Sunday, 31 January 2021

مری بیاض کو شعروں سے تم سجا دینا

 مِری بیاض کو شعروں سے تم سجا دینا

میں ایک وہم ہوں مجھ کو یقیں بنا دینا

بنا کے کوئی کہانی ہماری ہستی کی

ندی میں کاغذی کشتی کوئی بہا دینا

بہت سنبھال کے رکھا ہے میں نے پھولوں کو

جو ہو سکے انہیں گلدان میں سجا دینا