نجات
ذہن اک آتش فشاں ہے
جس میں منظر اور نغمے کا
باتوں کا، یادوں کا
ایسا لاوا ہے
جس کی کوئی شکل نہیں
نجات
ذہن اک آتش فشاں ہے
جس میں منظر اور نغمے کا
باتوں کا، یادوں کا
ایسا لاوا ہے
جس کی کوئی شکل نہیں
تم سے صدیوں کا پیار کروں
میرے سرہانے جو کتبہ ہے
اس پر تم نے اتنا پیارا شعر لکھوایا ہے
جو بھی پڑھے اس قبر میں سونا چاہے
جب تم آ کر پھول چڑھاتے ہو
(خود کی پوجا کرواتے ہو)
لاعلم
میری خانقاہ میں
لوگوں کا ہجوم
میری مسافت سے
لوٹنے کا منتظر تھا ملکیت کا نشہ
سرور کی موسیقی بکھیر رہا تھا
واپسی
سپیرا روزانہ
مجھے سانپ سے ڈسواتا ہے
اور تماشائی
دلچسپی سے کھیل کے
دوسرے حصے کا
انتظار کرتے ہیں
ماہر عشق
تمہیں
عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا
بیٹھے رہتے ہو
انگلیوں میں لیے سگریٹ
میں تم سے بات کرنے لگتی ہوں تو
دھواں تمہارے حلق میں جانے کی بجائے
مِری بیاض کو شعروں سے تم سجا دینا
میں ایک وہم ہوں مجھ کو یقیں بنا دینا
بنا کے کوئی کہانی ہماری ہستی کی
ندی میں کاغذی کشتی کوئی بہا دینا
بہت سنبھال کے رکھا ہے میں نے پھولوں کو
جو ہو سکے انہیں گلدان میں سجا دینا