Saturday, 17 April 2021

تمہیں عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا

 ماہر عشق


تمہیں

عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا

بیٹھے رہتے ہو

انگلیوں میں لیے سگریٹ

میں تم سے بات کرنے لگتی ہوں تو

دھواں تمہارے حلق میں جانے کی بجائے

اُتر جاتا ہے تمہاری آنکھ میں

اور تم مصروف ہو جاتے ہو

آنکھ مسلنے میں

تم کو معلوم ہے

تمہارے جانے کے بعد

میں پیتی رہتی ہوں

تمہارے ادھ بُجھے سگریٹ

تو پھر تم کیوں سگریٹ کو

آخری کش تک پینے لگ گئے ہو

کاش

تم پینے لگ جاؤ مجھے آخری کش تک

میری پیاس تمہاری طرف بڑھنے لگتی ہے تو

تم شروع ہو جاتے ہو

لوگوں کی فرمائشی نظمیں لکھنے میں

مجھے نظم کب کرو گے

اچھا ایسا کرو

کچھ عرصے کے لیے

مجھ سے جدا ہو جاؤ

اور کرو چار پانچ عشق

جب عشق کرنے میں گھاگ ہو جاؤ

تو میرے پاس چلے آنا واپس

میں منتظر رہوں گی تمہاری

ماہر عشق کی


شائستہ یوسف

No comments:

Post a Comment