ماہر عشق
تمہیں
عشق کرنا بالکل بھی نہیں آتا
بیٹھے رہتے ہو
انگلیوں میں لیے سگریٹ
میں تم سے بات کرنے لگتی ہوں تو
دھواں تمہارے حلق میں جانے کی بجائے
اُتر جاتا ہے تمہاری آنکھ میں
اور تم مصروف ہو جاتے ہو
آنکھ مسلنے میں
تم کو معلوم ہے
تمہارے جانے کے بعد
میں پیتی رہتی ہوں
تمہارے ادھ بُجھے سگریٹ
تو پھر تم کیوں سگریٹ کو
آخری کش تک پینے لگ گئے ہو
کاش
تم پینے لگ جاؤ مجھے آخری کش تک
میری پیاس تمہاری طرف بڑھنے لگتی ہے تو
تم شروع ہو جاتے ہو
لوگوں کی فرمائشی نظمیں لکھنے میں
مجھے نظم کب کرو گے
اچھا ایسا کرو
کچھ عرصے کے لیے
مجھ سے جدا ہو جاؤ
اور کرو چار پانچ عشق
جب عشق کرنے میں گھاگ ہو جاؤ
تو میرے پاس چلے آنا واپس
میں منتظر رہوں گی تمہاری
ماہر عشق کی
شائستہ یوسف
No comments:
Post a Comment