Saturday, 17 April 2021

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے

آپ کے دل میں جگہ میرے لیے کیا سچ ہے یہ

اللہ، اللہ، اس سے بہتر کیا ٹھکانہ چاہیے

گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے

جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے

بانٹتے ہی چاہیے رہنا محبت کے گلاب

دل کے گلشن کو کہا کس نے سجانا چاہیے

انجمن کوئی ہو اور دامن کسی کا بھی ہو وہ

خوشبوؤں میں سب کے دامن کو بسانا چاہیے

راز دل افشا نہ ہو، حسان! ہے بہتر یہی

حال دل کھل کر کبھی لب پر نہ لانا چاہیے


محمد حازم حسان

No comments:

Post a Comment