عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جو رحمتِ عالمﷺ کو نبوت نہیں ملتی
محشر میں کسی کو بھی شفاعت نہیں ملتی
اللہ کے محبوبﷺ سبب بن گئے، ورنہ
انسان کو معراج کی عظمت نہیں ملتی
دشمن کے ستانے پر بھی دیتے ہیں دعائیں
دنیا میں محمدﷺ سی شرافت نہیں ملتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جو رحمتِ عالمﷺ کو نبوت نہیں ملتی
محشر میں کسی کو بھی شفاعت نہیں ملتی
اللہ کے محبوبﷺ سبب بن گئے، ورنہ
انسان کو معراج کی عظمت نہیں ملتی
دشمن کے ستانے پر بھی دیتے ہیں دعائیں
دنیا میں محمدﷺ سی شرافت نہیں ملتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ہر اک وصفِ نبی، مرتضیٰ کی ذات میں ہے
تب ہی یہ نام سرِ لامکاں بھی سات میں ہے
بھلا علیؑ سے کسی کا مقابلہ کیسا
علیؑ کے جیسا کہاں کوئی کائنات میں ہے
علیؑ کے نام ملتا ہے نورِ دیں و ایماں
علیؑ تو آج بھی روشن میری حیات میں ہے
جو چاہے کیجئے کوئی سزا تو ہے ہی نہیں
زمانہ سوچ رہا ہے خدا تو ہے ہی نہیں
دکھا رہے ہو نئی منزلوں کے خواب ہمیں
تمہارے پاس کوئی راستہ تو ہے ہی نہیں
وہ اپنے چہرے کے داغوں پہ کیوں نہ فخر کریں
اب ان کے پاس کوئی آئینہ تو ہے ہی نہیں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ
ایک آسمانِ شہادت حسینؑ ہے کہ نہیں
بتاؤ دین کی عظمت حسین ہے کہ نہیں
مٹانے والوں سے پوچھو جو مٹ گئے خود ہی
جہاں میں اب بھی سلامت حسین ہے کہ نہیں
جب ان کے سائے میں اسلام ہے تو شک کیوں ہے
نبیﷺ کا سایۂ رحمت حسین ہے کہ نہیں
اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت
کیا جواب آئے گا کیسے آئے گا ڈر تھا بہت
جان دے دیں گے اگر دنیا نے روکا راستہ
اور کوئی حل نہ نکلا ہم نے تو سوچا بہت
اب سمجھ لیتے ہیں میٹھے لفظ کی کڑواہٹیں
ہو گیا ہے زندگی کا تجربہ تھوڑا بہت
سچ کہوں مجھ کو یہ عنوان بُرا لگتا ہے
ظلم سہتا ہوا انسان برا لگتا ہے
ہم مجاہد ہیں پر ایمان کی کمزوری سے
اب ہمیں جنگ کا میدان برا لگتا ہے
اس قدر ہو گئی مصروف یہ دنیا اپنی
ایک دن ٹھہرے تو مہمان برا لگتا ہے
صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں
نظر جیسی نظر ہو تو نظارے بول پڑتے ہیں
تمہاری ہی نگاہوں نے کہا ہے ہم سے یہ اکثر
تمہارے جسم پر تو رنگ سارے بول پڑتے ہیں
مہک جاتے ہیں گل جیسے صبا کے چوم لینے سے
اگر لہریں مخاطب ہوں کنارے بول پڑتے ہیں
کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر، نہیں معلوم
وہ بدحواسی ہے، اپنا ہی گھر نہیں معلوم
ہمارے شہر میں ہر روز اک قیامت ہے
یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں معلوم
ہمارا صبر، تجھے خاک میں ملا دے گا
ہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم