Showing posts with label منظر بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label منظر بھوپالی. Show all posts

Friday, 28 July 2023

جو رحمت عالم کو نبوت نہیں ملتی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جو رحمتِ عالمﷺ کو نبوت نہیں ملتی

محشر میں کسی کو بھی شفاعت نہیں ملتی

اللہ کے محبوبﷺ سبب بن گئے، ورنہ

انسان کو معراج کی عظمت نہیں ملتی

دشمن کے ستانے پر بھی دیتے ہیں دعائیں

دنیا میں محمدﷺ سی شرافت نہیں ملتی

Monday, 24 July 2023

ہر اک وصف نبی مرتضیٰ کی ذات میں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ہر اک وصفِ نبی، مرتضیٰ کی ذات میں ہے

تب ہی یہ نام سرِ لامکاں بھی سات میں ہے

بھلا علیؑ سے کسی کا مقابلہ کیسا

علیؑ کے جیسا کہاں کوئی کائنات میں ہے

علیؑ کے نام ملتا ہے نورِ دیں و ایماں

علیؑ تو آج بھی روشن میری حیات میں ہے

Monday, 27 February 2023

جو چاہے کیجئے کوئی سزا تو ہے ہی نہیں

 جو چاہے کیجئے کوئی سزا تو ہے ہی نہیں 

زمانہ سوچ رہا ہے خدا تو ہے ہی نہیں 

دکھا رہے ہو نئی منزلوں کے خواب ہمیں 

تمہارے پاس کوئی راستہ تو ہے ہی نہیں 

وہ اپنے چہرے کے داغوں پہ کیوں نہ فخر کریں 

اب ان کے پاس کوئی آئینہ تو ہے ہی نہیں 

Saturday, 6 August 2022

ایک آسمان شہادت حسین ہے کہ نہیں

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ


ایک آسمانِ شہادت حسینؑ ہے کہ نہیں

بتاؤ دین کی عظمت حسین ہے کہ نہیں

مٹانے والوں سے پوچھو جو مٹ گئے خود ہی

جہاں میں اب بھی سلامت حسین ہے کہ نہیں

جب ان کے سائے میں اسلام ہے تو شک کیوں ہے

نبیﷺ کا سایۂ رحمت حسین ہے کہ نہیں

Monday, 2 May 2022

اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت

 اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت

کیا جواب آئے گا کیسے آئے گا ڈر تھا بہت

جان دے دیں گے اگر دنیا نے روکا راستہ

اور کوئی حل نہ نکلا ہم نے تو سوچا بہت

اب سمجھ لیتے ہیں میٹھے لفظ کی کڑواہٹیں

ہو گیا ہے زندگی کا تجربہ تھوڑا بہت

Monday, 13 September 2021

ظلم سہتا ہوا انسان برا لگتا ہے

 سچ کہوں مجھ کو یہ عنوان بُرا لگتا ہے

ظلم سہتا ہوا انسان برا لگتا ہے

ہم مجاہد ہیں پر ایمان کی کمزوری سے

اب ہمیں جنگ کا میدان برا لگتا ہے

اس قدر ہو گئی مصروف یہ دنیا اپنی

ایک دن ٹھہرے تو مہمان برا لگتا ہے

Tuesday, 6 October 2020

صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں

 صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں

نظر جیسی نظر ہو تو نظارے بول پڑتے ہیں

تمہاری ہی نگاہوں نے کہا ہے ہم سے یہ اکثر

تمہارے جسم پر تو رنگ سارے بول پڑتے ہیں

مہک جاتے ہیں گل جیسے صبا کے چوم لینے سے

اگر لہریں مخاطب ہوں کنارے بول پڑتے ہیں

Tuesday, 7 July 2020

آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی

آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی
خشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی
دن بھی ڈوبا کہ نہیں یہ مجھے معلوم نہیں
جس جگہ بجھ گئے آنکھوں کے دِیے رات ہوئی
کوئی حسرت کوئی ارماں کوئی خواہش ہی نہ تھی
ایسے عالم میں مری خود سے ملاقات ہوئی

تم ہو محفل میں تو میری چشم تر دیکھے گا کون

تم ہو محفل میں تو میری چشم تر دیکھے گا کون
چاند کے آگے بھلا "داغِ جگر" دیکھے گا کون
یاد کے سوکھے گلابوں سے سجا ہے دل کا باغ
زخم یہ گزرے دنوں کے اب مگر دیکھے گا کون
آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں
یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون

ستمگروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے

ستمگروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے
ابھی زمین کے لیے آسمان کچھ کم ہے
جو اس خیال کو بھولے تو مارے جاؤ گے
کہ اپنی سمت قیامت کا دھیان کچھ کم ہے
ہمارے شہر میں خیر و عافیت ہے، مگر
یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے

Sunday, 5 July 2020

بے عمل کو دنیا میں راحتیں نہیں ملتیں

بے عمل کو دنیا میں، راحتیں نہیں ملتیں
دوستو! دعاؤں سے، جنتیں نہیں ملتیں
اس نئے زمانے کے، آدمی ادھورے ہیں
صورتیں تو ملتی ہیں، سیرتیں نہیں ملتیں
اپنے بل پہ لڑتی ہے، اپنی جنگ ہر پیڑھی
نام سے بزرگوں کے، عظمتیں نہیں ملتیں

وطن نصیب کہاں اپنی قسمتیں ہوں گی

وطن نصیب کہاں، اپنی قسمتیں ہوں گی 
جہاں بھی جائیں گے ہم ساتھ ہجرتیں ہوں گی
ابھی تو قید ہیں جذبوں کی آندھیاں دل میں 
ہمارا "صبر" جو "توڑا"، قیامتیں ہوں گی
کبھی تو "صاحبِ دیوار و در" بنیں گے ہم 
کبھی تو سر پہ ہمارے نئی چھتیں ہوں گی

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے
اٹھو، کہ تم کو جگانے والا کوئی نہیں ہے
محافظ اپنے ہو "آپ" ہی تم، یہ یاد رکھو
پڑوس میں بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے
فضا میں بارود اڑ رہی ہے، جدھر بھی دیکھو
جہاں میں اب گل کھلانے والا کوئی نہیں ہے

Friday, 1 May 2020

کدھر کو جائیں گے اہل سفر نہیں معلوم​

 کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر، نہیں معلوم​

وہ بدحواسی ہے، اپنا ہی گھر نہیں معلوم​

ہمارے شہر میں ہر روز اک قیامت ہے

یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں معلوم

ہمارا صبر، تجھے خاک میں ملا دے گا

ہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم

Friday, 3 November 2017

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے
(انقلابی شاعری)

ستم کرو  گے ستم کریں گے
کرم کرو گے کرم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمھارے جیسے
جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

Friday, 6 January 2017

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا
کہ اب مزاج بنا لیجیۓ شکاری کا
ہم احترمِ محبت میں ‌سر جھکاتے ہیں
غلط نکال نہ مفہوم خاکساری کا
وہ بادشاہ بنے بیٹھے ہیں مقدر سے مگر
مزاج ان کا ہے اب تک وہی بھکاری کا

ہماری جیب سے جب بھی قلم نکلتا ہے

ہماری جیب سے جب بھی قلم نکلتا ہے
سیاہ شب کے خداؤں کا دم نکلتا ہے
تمہارے وعدوں کا قد بھی تمہارے جیسا ہے
کبھی جو ناپ کے دیکھو تو کم نکلتا ہے
وطن پہ مٹنے کا جب بھی سوال آتا ہے 
تو سب سے پہلے ہمارا قدم نکلتا ہے

Monday, 5 December 2016

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا
جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا
سبھی کو دکھ تھا سمندر کی بے قراری کا
کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا
جو آئینے سے مِلا، آئینے پہ جھنجھلایا
کسی نے اپنی کمی کی طرف نہیں دیکھا

تم بھی بلبل ہو اس باغ کے اور ہم شان گلزار ہیں

تم بھی بلبل ہو اس باغ کے اور ہم شانِ گلزار ہیں
ساری سانسیں تمہاری نہیں، ہم بھی جینے کے حقدار ہیں
تنگ کر دی گئی ہے زمیں، ہم پہ اس واسطے آج کل
ہم پجاری ہیں سچائی کے، آئینوں کے طرف دار ہیں
دور سے ہم کو سمجھو گے کیا، پاس آ کر تو دیکھو ہمیں
ہم وفا ہی وفا دوستو، ہم فقط پیار ہی پیار ہیں

ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں

بیٹیاں

ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بیٹیاں تو بڑی معصوم ہیں، جذباتی ہیں
اپنی خدمت سے اتر جاتی ہیں دل میں سب کے
ہر نئی نسل کو تہذیب یہ سکھلاتی ہیں
ان سے قائم ہے تقدس بھی ہمارے گھر کا
صبح کو اپنی نمازوں سے یہ مہکاتی ہیں