سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا
جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا
سبھی کو دکھ تھا سمندر کی بے قراری کا
کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا
جو آئینے سے مِلا، آئینے پہ جھنجھلایا
سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم
کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں دیکھا
تمام عمر گزاری خیال میں جس کے
تمام عمر اسی کی طرف نہیں دیکھا
منظر بھوپالی
No comments:
Post a Comment