Monday, 5 December 2016

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا

سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا
جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا
سبھی کو دکھ تھا سمندر کی بے قراری کا
کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا
جو آئینے سے مِلا، آئینے پہ جھنجھلایا
کسی نے اپنی کمی کی طرف نہیں دیکھا
سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم
کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں دیکھا
تمام عمر گزاری خیال میں جس کے
تمام عمر اسی کی طرف نہیں دیکھا

منظر بھوپالی

No comments:

Post a Comment