تم بھی بلبل ہو اس باغ کے اور ہم شانِ گلزار ہیں
ساری سانسیں تمہاری نہیں، ہم بھی جینے کے حقدار ہیں
تنگ کر دی گئی ہے زمیں، ہم پہ اس واسطے آج کل
ہم پجاری ہیں سچائی کے، آئینوں کے طرف دار ہیں
دور سے ہم کو سمجھو گے کیا، پاس آ کر تو دیکھو ہمیں
کر دیا قتل ایک شہر کو اور مظلوم بھی بن گئے
جھوٹ کو سچ بناتے ہیں یہ، کتنے اچھے اداکار ہیں
یہ اذیت بھی ذلت بھی ہے، ہم پہ یہ غم قیامت بھی ہے
جس زمیں کے لیے مر مٹے، اس زمیں پر ہی غدار ہیں
منظر بھوپالی
No comments:
Post a Comment