Showing posts with label اظہر نقوی. Show all posts
Showing posts with label اظہر نقوی. Show all posts

Thursday, 8 December 2022

گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں

 گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں

یہ ستارے کوئی ساعت کے لیے جاگتے ہیں

خوف ایسا کہ ہم بند مکانوں میں بھی

سونے والوں کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں

عمر گزری ہے تِری سجدہ وری میں لیکن

آج ہم اپنی عبادت کے لیے جاگتے ہیں

Monday, 24 October 2022

جھٹلا رہا ہوں عظمت نام و نسب کو میں

 جھٹلا رہا ہوں عظمتِ نام و نسب کو میں

آواز دے رہا ہوں یہ کس کے غضب کو میں

میرے بدن میں درد کا لشکر ہے، دیکھنا

گزرا تو روند ڈالوں گا شہرِ طرب کو میں

وہ چاہتوں کے خواب، وہ خوابوں کے سلسلے

اک ایک کر کے توڑتا جاتا ہوں سب کو میں

Wednesday, 10 August 2022

یہ سارا اسم محمد کا معجزہ ہے سو ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بس ایک نُور دمِ خلقِ دو سرا ہے سو ہے

یہ سارا اسمِ محمدﷺ کا معجزہ ہے سو ہے

عمل کہاں تھے کہ بخشش کی آس بھی کرتے

مگر جو شافعِ محشرؐ کا آسرا ہے، سو ہے

وہ کرب ہے کہ زمیں راکھ ہو گئی ہوتی

بس ایک رحمتِ سردارِؐ انبیاؑ ہے، سو ہے

Tuesday, 27 April 2021

شام کے ڈھلتے ہوئے

 پیام


شام کے ڈھلتے ہوئے

سورج کی مدہم زرد کرنوں نے

سمندر کی سیہ ہوتی ہوئی چادر کے ہر اک تار پر

اپنی سنہری انگلیوں سے اک نئے سورج کی آب و تاب کا

پیغام لکھا 

Monday, 26 April 2021

نہیں ہے پر کوئی امکان ہو بھی سکتا ہے

 نہیں ہے پر کوئی امکان ہو بھی سکتا ہے

وہ ایک شب مِرا مہمان ہو بھی سکتا ہے

عجب نہیں کہ بچھڑنے کا فیصلہ کر لے

اگر یہ دل ہے تو نادان ہو بھی سکتا ہے

محبتوں میں تو سود و زیاں کو مت سوچو

محبتوں میں تو نقصان ہو بھی سکتا ہے

Tuesday, 13 April 2021

خاک چہرے پہ ملنے والا ہے

 خاک چہرے پہ ملنے والا ہے

زرا سورج پگھلنے والا ہے

اب سمندر تمام لاشوں کو

ساحلوں پر اُگلنے والا ہے

ٹوٹتے جا رہے ہیں آئینے

سارا منظر بدلنے والا ہے

Saturday, 10 April 2021

کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ

 کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دُکھ

نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ

کہیں مدت ہوئی اس کو گنوایا تھا مگر اب تک

مِری آنکھوں میں ہے ان بے سر و سامانیوں کا دکھ

تو کیا تُو بھی مِری اُجڑی ہوئی بستی سے گزرا ہے

تو کیا تُو نے بھی دیکھا ہے مِری ویرانیوں کا دکھ

Tuesday, 23 March 2021

خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے

 خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے

ہم یونہی شامِ غم کی حوالات میں رہے

اک شہرِ خواب ہم نے بسایا تھا، اور پھر

اس میں رہے نہ اس کے مضافات میں رہے

کس عرصۂ فریب کی وحشت میں تھے کہ ہم

دن میں ہی رہ سکے نہ کہیں رات میں رہے

Monday, 1 February 2021

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

 شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں

وہ کھلیں تو ہم سے راز دشت وحشت کچھ کھلے

لوٹ کر کچھ لوگ آئے ہیں مگر خاموش ہیں

ہو گیا غرقاب سورج اور پھر اب اس کے بعد

ساحلوں پر ریت اڑتی ہے بھنور خاموش ہیں