گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں
یہ ستارے کوئی ساعت کے لیے جاگتے ہیں
خوف ایسا کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں
عمر گزری ہے تِری سجدہ وری میں لیکن
آج ہم اپنی عبادت کے لیے جاگتے ہیں
گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں
یہ ستارے کوئی ساعت کے لیے جاگتے ہیں
خوف ایسا کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں
عمر گزری ہے تِری سجدہ وری میں لیکن
آج ہم اپنی عبادت کے لیے جاگتے ہیں
جھٹلا رہا ہوں عظمتِ نام و نسب کو میں
آواز دے رہا ہوں یہ کس کے غضب کو میں
میرے بدن میں درد کا لشکر ہے، دیکھنا
گزرا تو روند ڈالوں گا شہرِ طرب کو میں
وہ چاہتوں کے خواب، وہ خوابوں کے سلسلے
اک ایک کر کے توڑتا جاتا ہوں سب کو میں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بس ایک نُور دمِ خلقِ دو سرا ہے سو ہے
یہ سارا اسمِ محمدﷺ کا معجزہ ہے سو ہے
عمل کہاں تھے کہ بخشش کی آس بھی کرتے
مگر جو شافعِ محشرؐ کا آسرا ہے، سو ہے
وہ کرب ہے کہ زمیں راکھ ہو گئی ہوتی
بس ایک رحمتِ سردارِؐ انبیاؑ ہے، سو ہے
پیام
شام کے ڈھلتے ہوئے
سورج کی مدہم زرد کرنوں نے
سمندر کی سیہ ہوتی ہوئی چادر کے ہر اک تار پر
اپنی سنہری انگلیوں سے اک نئے سورج کی آب و تاب کا
پیغام لکھا
نہیں ہے پر کوئی امکان ہو بھی سکتا ہے
وہ ایک شب مِرا مہمان ہو بھی سکتا ہے
عجب نہیں کہ بچھڑنے کا فیصلہ کر لے
اگر یہ دل ہے تو نادان ہو بھی سکتا ہے
محبتوں میں تو سود و زیاں کو مت سوچو
محبتوں میں تو نقصان ہو بھی سکتا ہے
خاک چہرے پہ ملنے والا ہے
زرا سورج پگھلنے والا ہے
اب سمندر تمام لاشوں کو
ساحلوں پر اُگلنے والا ہے
ٹوٹتے جا رہے ہیں آئینے
سارا منظر بدلنے والا ہے
کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دُکھ
نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ
کہیں مدت ہوئی اس کو گنوایا تھا مگر اب تک
مِری آنکھوں میں ہے ان بے سر و سامانیوں کا دکھ
تو کیا تُو بھی مِری اُجڑی ہوئی بستی سے گزرا ہے
تو کیا تُو نے بھی دیکھا ہے مِری ویرانیوں کا دکھ
خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے
ہم یونہی شامِ غم کی حوالات میں رہے
اک شہرِ خواب ہم نے بسایا تھا، اور پھر
اس میں رہے نہ اس کے مضافات میں رہے
کس عرصۂ فریب کی وحشت میں تھے کہ ہم
دن میں ہی رہ سکے نہ کہیں رات میں رہے
شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں
کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں
وہ کھلیں تو ہم سے راز دشت وحشت کچھ کھلے
لوٹ کر کچھ لوگ آئے ہیں مگر خاموش ہیں
ہو گیا غرقاب سورج اور پھر اب اس کے بعد
ساحلوں پر ریت اڑتی ہے بھنور خاموش ہیں