گریۂ شب کی شہادت کے لیے جاگتے ہیں
یہ ستارے کوئی ساعت کے لیے جاگتے ہیں
خوف ایسا کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں
عمر گزری ہے تِری سجدہ وری میں لیکن
آج ہم اپنی عبادت کے لیے جاگتے ہیں
پہلے ہم کرتے ہیں تصویر میں عریاں تِرا خواب
اور پھر اس کی حفاظت کے لیے جاگتے ہیں
لفظ در لفظ پڑھا کرتے ہیں تیری صورت
رات بھر تیری تلاوت کے لیے جاگتے ہیں
اظہر نقوی
No comments:
Post a Comment