Showing posts with label اقبال ارشد. Show all posts
Showing posts with label اقبال ارشد. Show all posts

Wednesday, 29 December 2021

دھواں سزا ہے سزا کے قریب مت ہونا

 دھواں سزا ہے، سزا کے قریب مت ہونا

چراغ ہو تو ہوا کے قریب مت ہونا🪔

تپش ضروری ہے لیکن گریز اچھا ہے

اسے قریب بلا کے، قریب مت ہونا

وہ جس کو چاہے بنا دے کلام سے پتھر

طلسمِ ہوشربا کے قریب مت ہونا

Sunday, 26 December 2021

سانسوں میں تیرے لمس کی سوغات نہ آئی

 سانسوں میں تیرے لمس کی سوغات نہ آئی

ہم جس کے طلبگار تھے وہ رات نہ آئی

دل ترکِ تمنا پہ رضامند نہ ہوتا

اچھا یہ ہوا شامِ ملاقات نہ آئی

کوچے میں تیرے اب بھی وہ درویش پڑا ہے

دروازے سے تیرے جسے خیرات نہ آئی

Saturday, 25 December 2021

غلط سمجھنا جسے تم اسے غلط کہنا

 غلط سمجھنا جسے تم، اسے غلط کہنا

کسی کے کہنے سے پتھر کو چاند مت کہنا

خود اپنی ذات بھی رکھنا نظر کے دھوکے میں

لگے جو آگ تو رنگوں کی مصلحت کہنا

عجیب دور تھا وہ بھی کہ دل کے افسانے

لرزتے کانپتے ہونٹوں کی معرفت کہنا

Friday, 22 October 2021

دامن چاک لئے بیٹھا ہوں

 دامن چاک لیے بیٹھا ہوں

آنکھ نمناک لیے بیٹھا ہوں

جتنی کل مجھ کو ضرورت ہو گی

اتنی ہی خاک لیے بیٹھا ہوں

مختلف ٹاٹ کے پیوند لگی

ایک پوشاک لیے بیٹھا ہوں

Friday, 23 April 2021

رگوں میں زہر کے نشتر اتر گئے چپ چاپ

 رگوں میں زہر کے نشتر اُتر گئے چُپ چاپ

ہم اہلِ درد جہاں سے گزر گئے چپ چاپ

مسافرانِ محبت کی یہ کہانی ہے

چلے تھے شور مچاتے ٹھہر گئے چپ چاپ

کسی پہ ترکِ تعلق کا بھید کُھل نہ سکا

تِری نگاہ سے ہم یوں اُتر گئے چپ چاپ