دھواں سزا ہے، سزا کے قریب مت ہونا
چراغ ہو تو ہوا کے قریب مت ہونا🪔
تپش ضروری ہے لیکن گریز اچھا ہے
اسے قریب بلا کے، قریب مت ہونا
وہ جس کو چاہے بنا دے کلام سے پتھر
طلسمِ ہوشربا کے قریب مت ہونا
دھواں سزا ہے، سزا کے قریب مت ہونا
چراغ ہو تو ہوا کے قریب مت ہونا🪔
تپش ضروری ہے لیکن گریز اچھا ہے
اسے قریب بلا کے، قریب مت ہونا
وہ جس کو چاہے بنا دے کلام سے پتھر
طلسمِ ہوشربا کے قریب مت ہونا
سانسوں میں تیرے لمس کی سوغات نہ آئی
ہم جس کے طلبگار تھے وہ رات نہ آئی
دل ترکِ تمنا پہ رضامند نہ ہوتا
اچھا یہ ہوا شامِ ملاقات نہ آئی
کوچے میں تیرے اب بھی وہ درویش پڑا ہے
دروازے سے تیرے جسے خیرات نہ آئی
غلط سمجھنا جسے تم، اسے غلط کہنا
کسی کے کہنے سے پتھر کو چاند مت کہنا
خود اپنی ذات بھی رکھنا نظر کے دھوکے میں
لگے جو آگ تو رنگوں کی مصلحت کہنا
عجیب دور تھا وہ بھی کہ دل کے افسانے
لرزتے کانپتے ہونٹوں کی معرفت کہنا
دامن چاک لیے بیٹھا ہوں
آنکھ نمناک لیے بیٹھا ہوں
جتنی کل مجھ کو ضرورت ہو گی
اتنی ہی خاک لیے بیٹھا ہوں
مختلف ٹاٹ کے پیوند لگی
ایک پوشاک لیے بیٹھا ہوں
رگوں میں زہر کے نشتر اُتر گئے چُپ چاپ
ہم اہلِ درد جہاں سے گزر گئے چپ چاپ
مسافرانِ محبت کی یہ کہانی ہے
چلے تھے شور مچاتے ٹھہر گئے چپ چاپ
کسی پہ ترکِ تعلق کا بھید کُھل نہ سکا
تِری نگاہ سے ہم یوں اُتر گئے چپ چاپ