Showing posts with label عدنان راجا. Show all posts
Showing posts with label عدنان راجا. Show all posts

Saturday, 10 October 2020

وقت رخصت جو مری آنکھ میں پانی آیا

 وقتِ رخصت جو مِری آنکھ میں پانی آیا

پھر سمجھ، لفظِ محبت کا معانی آیا

آج پھر شہر سے ہجرت کا کہا ہے اس نے

کل ہی میں کر کے یہاں نقل مکانی آیا

ناخدا! تُو ذرا کشتی کو سنبھالے رکھنا

میں ابھی روک کے دریا کی روانی آیا

Thursday, 15 December 2016

چراغ و گل سے جو دیوار و در سجے ہوئے ہیں

چراغ و گل سے جو دیوار و در سجے ہوئے ہیں
مِری تباہی سے یاروں کے گھر سجے ہوئے ہیں
یہ میری آنکھ بھی گویا ہے کربلا کی زمیں
جفا کے نیزے پہ خوابوں کے سر سجے ہوئے ہیں
خود اپنی لاش اٹھا کر مجھے گزرنا ہے
اسی لیے تو سبھی رہگزر سجے ہوئے ہیں

کبھی کھڑکی کبھی در بولتا ہے

کبھی کھڑکی، کبھی در بولتا ہے
میں چب ہو جاؤں تو گھر بولتا ہے
میں لب بستہ بھی جو محوِ سخن ہوں
کوئی تو میرے اندر بولتا ہے
میں اپنی جنگ کیسے ہار پاؤں
مِرا نیزے پہ بھی سر بولتا ہے

Tuesday, 25 November 2014

ہجر کے ساتھ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے

ہجر کے ساتھ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے
اب محبت سے کنارا بھی تو ہو سکتا ہے
یہ جو اک نور چمکتا ہے مرے ماتھے پر
یہ ولایت کا اشارا بھی تو ہو سکتا ہے
میں تِرے حسن سے انکار بھی کر سکتا ہوں
 پیار ہونے کو دوبارا بھی تو ہو سکتا ہے

غبار زعم دل بے قرار ختم ہوا

غبارِ زعمِ دلِ بے قرار ختم ہوا
ذرا سی دیر میں برسوں کا پیار ختم ہوا
لے آج ترکِ تعلق بھی کر لیا تُو نے
 لے آج مجھ پہ تِرا اختیار ختم ہوا
 خدا کا شکر، اجازت ملی جدائی کی
 خدا کا شکر، مِرا انتظار ختم ہوا

Saturday, 26 July 2014

فراتِ فکر کا مارا ہوا کہاں جاؤں

فراتِ فکر کا مارا ہوا کہاں جاؤں
صلیبِ غم پہ اتارا ہوا کہاں جاؤں
میں جنگ جیت کے آیا ہوں موت سے، لیکن
اب اپنی زیست سے ہارا ہوا کہاں جاؤں
کہاں پہ جاؤں تِری خلق کا ستایا ہوا
میں سُوئے دار پکارا ہوا کہاں جاؤں

یہ مجھ پہ تہمتیں کیسی کہ انحراف کیا

یہ مجھ پہ تہمتیں کیسی کہ انحراف کیا
اے عشق! تجھ سے تو لاکھوں نے اختلاف کیا
نہیں ہے میری ہتھیلی میں زندگی کی لکیر
کل ایک جوتشی نے مجھ پہ انکشاف کیا
مٹا دی اس نے مِری آخری گواہی بھی
بڑی صفائی سے قاتل نے خون صاف کیا

پس زندان سر راہ گزر آتے ہیں

پسِ زندان، سرِ راہ گزر آتے ہیں
 ہم کو ہر حال میں جینے کے ہنر آتے ہیں
 لوگ پتھر لیے ہاتھوں میں لپکتے ہیں ادھر
جب کسی پیڑ پہ دو چار ثمر آتے ہیں
 میں حقیقت کی حقیقت کو سمجھتا ہوں، مگر
 لوگ ویسے بھی نہیں، جیسے نظر آتے ہیں

Sunday, 5 January 2014

آؤ اب کہ طے کر لیں

آؤ اب کہ طے کر لیں
 سال جو نیا آیا
 کس طرح گزاریں گے
 سخت وہ سبھی باتیں
 تلخ سی ملاقاتیں
 ہجر کے وہ دن سارے

حقیقت میں کوئی ہمدرد، چارہ گر نہیں ہوتا

حقیقت میں کوئی ہمدرد، چارہ گر نہیں ہوتا
 سرِ منظر جو ہوتا ہے پسِ منظر نہیں ہوتا
 کبھی دشتِ تمنا میں، کبھی شہرِ خیالاں میں
 ہم ایسے لوگ پنچھی ہیں ہمارا گھر نہیں ہوتا
 ہماری آنکھ کے سپنے، ہمارا کل اثاثہ ہیں
 ہمیں لٹنے اجڑنے کا کہیں بھی ڈر نہیں ہوتا

اک تماشا سرِ بازار بنانے سے رہا

اِک تماشا سرِ بازار بنانے سے رہا
 میں تجھے اپنا خریدار بنانے سے رہا
 جس میں معیارِ شرافت کی زبوں حالی ہو
 اس جہالت میں تو کردار بنانے سے رہا
 اِک تعصب تیری سوچوں پہ مسلط ہے ابھی
 سو تجھے قابلِ گفتار بنانے سے رہا