وقتِ رخصت جو مِری آنکھ میں پانی آیا
پھر سمجھ، لفظِ محبت کا معانی آیا
آج پھر شہر سے ہجرت کا کہا ہے اس نے
کل ہی میں کر کے یہاں نقل مکانی آیا
ناخدا! تُو ذرا کشتی کو سنبھالے رکھنا
میں ابھی روک کے دریا کی روانی آیا
وقتِ رخصت جو مِری آنکھ میں پانی آیا
پھر سمجھ، لفظِ محبت کا معانی آیا
آج پھر شہر سے ہجرت کا کہا ہے اس نے
کل ہی میں کر کے یہاں نقل مکانی آیا
ناخدا! تُو ذرا کشتی کو سنبھالے رکھنا
میں ابھی روک کے دریا کی روانی آیا