چراغ و گل سے جو دیوار و در سجے ہوئے ہیں
مِری تباہی سے یاروں کے گھر سجے ہوئے ہیں
یہ میری آنکھ بھی گویا ہے کربلا کی زمیں
جفا کے نیزے پہ خوابوں کے سر سجے ہوئے ہیں
خود اپنی لاش اٹھا کر مجھے گزرنا ہے
امیدِ وصل کی جب سے بہار آئی ہے
خیالِ یار کے سارے شجر سجے ہوئے ہیں
یہ خوش لباسی، لبادہ ہے غم چھپانے کا
اگرچہ اجڑے ہوئے ہیں، مگر سجے ہوئے ہیں
وگرنہ، زندگی اتنی حسیں نہیں ہوتی
تمہاری یاد سے شام و سحر سجے ہوئے ہیں
عدنان راجا
No comments:
Post a Comment