Thursday, 15 December 2016

کبھی کھڑکی کبھی در بولتا ہے

کبھی کھڑکی، کبھی در بولتا ہے
میں چب ہو جاؤں تو گھر بولتا ہے
میں لب بستہ بھی جو محوِ سخن ہوں
کوئی تو میرے اندر بولتا ہے
میں اپنی جنگ کیسے ہار پاؤں
مِرا نیزے پہ بھی سر بولتا ہے
تجھے منصف گواہی اور کیا دوں
مِرے حق میں تو خنجر بولتا ہے
حقیقت چھپ نہیں سکتی کبھی بھی
نہ کچھ بولے، تو منظر بولتا ہے
نہ بولے جان سے جاتا ہے راجا
زباں کٹٹی ہے، یہ گر بولتا ہے

عدنان راجا

No comments:

Post a Comment