تمہارے نام کا ہم ورد کرنے والے تھے
کہ اس سبب سے کئی ڈر اترنے والے تھے
میں روز جاتا وہاں پھول رکھ کے آ جاتا
تم ایک بار جہاں پاؤں دھرنے والے تھے
ہم ایسے لوگ جنہیں روشنی ڈراتی ہے
لرزتے ہونٹوں سے آواز گِرنے والی تھی
سفید فرش پہ لہجے بکھرنے والے تھے
تہہِ کتاب مِری سانس رکتی جاتی تھی
بہت سے لفظ مِرے ساتھ مرنے والے تھے
دعائیں پڑھتے ہوئے اور گیت گاتے ہوئے
مِرے قریب سے دریا گزرنے والے تھے
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment