رواں دواں ہے تِری سمت اس سبب سے کوئی
زمیں لپیٹ رہا ہے، کہِیں عقب سے کوئی
جنہوں نے ساری گِرہیں کھول کر دکھائی تھیں
نفیس ہاتھ تھے اور لوگ تھے عجب سے کوئی
عجیب رنگ کا اک پھول کِھلتے دیکھتا ہوں
اندھیرے پانی سے کچھ راز کہہ رہا ہو گا
کنویں میں جھانک رہا ہے نجانے کب سے کوئی
نمازِ شب میں کوئی یاد آ گیا ہے اسے
سکوت اوڑھ کے بیٹھا ہے نِیم شب سے کوئی
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment