Wednesday, 14 December 2016

رواں دواں ہے تری سمت اس سبب سے کوئی

رواں دواں ہے تِری سمت اس سبب سے کوئی
زمیں لپیٹ رہا ہے، کہِیں عقب سے کوئی
جنہوں نے ساری گِرہیں کھول کر دکھائی تھیں
نفیس ہاتھ تھے اور لوگ تھے عجب سے کوئی
عجیب رنگ کا اک پھول کِھلتے دیکھتا ہوں 
جہاں نشان سا پڑتا ہے تیرے لب سے کوئی
اندھیرے پانی سے کچھ راز کہہ رہا ہو گا
کنویں میں جھانک رہا ہے نجانے کب سے کوئی
نمازِ شب میں کوئی یاد آ گیا ہے اسے 
سکوت اوڑھ کے بیٹھا ہے نِیم شب سے کوئی

فیصل ہاشمی

No comments:

Post a Comment