Showing posts with label حسرت وارثی. Show all posts
Showing posts with label حسرت وارثی. Show all posts

Wednesday, 17 June 2026

خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر

خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر

کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر

شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا

چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر

فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے

مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر

Friday, 24 October 2025

رنگت وہ اب کہاں نسرین و نسترن میں

 رنگت وہ اب کہاں نسرین و نسترن میں

اجڑا پڑا ہوا کیا خاک ہے چمن میں

کچھ آرزو نہیں ہے، ہے آرزو تو یہ ہے

رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں

💕نعرۂ اناالحق اور دعوئ محبت

رکھا ہوا تھا اور کیا منصور و کوہکن میں

Thursday, 25 July 2024

سنائیں غم کی کسے کہانی

 سنائیں غم کی کسے کہانی ہمیں تو اپنے ستا رہے ہیں

ہمیشہ صبح ومسا وہ دل پر ستم کے خنجر چلا رہے ہیں

نہ کوئی انگلش نہ کوئی جرمن نہ کوئی رشین نہ کوئی ٹرکی

مٹانے والے ہیں اپنے ہندی جو آج ہم کو مٹا رہے ہیں

چلو چلو یاروں رنگ تھیٹر دکھائیں تم کو وہاں پر لبرل

جو چند ٹکڑوں پہ سیم و زر کے نیا تماشہ دکھا رہے ہیں

Wednesday, 12 June 2024

بہار آئی شورش جنون فتنہ ساماں کی

 بہار آئی شورشٰ جنون فتنہ ساماں کی

الٰہی خیرکرنا تو مِرے زیب و گریباں کی

صحیح جذبات حریّت کہیں مٹنے سے مٹتے ہیں

عبث ہیں دھمکیاں دار و رسن کی اور زِنداں کی

وہ گُلشن جو کبھی آزاد تھا گُزرے زمانے میں

میں ہوں شاخِ شکستہ اب اُسی اُجڑے گُلستاں کی