خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر
کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر
شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا
چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر
فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے
مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر
خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر
کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر
شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا
چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر
فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے
مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر
رنگت وہ اب کہاں نسرین و نسترن میں
اجڑا پڑا ہوا کیا خاک ہے چمن میں
کچھ آرزو نہیں ہے، ہے آرزو تو یہ ہے
رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں
💕نعرۂ اناالحق اور دعوئ محبت
رکھا ہوا تھا اور کیا منصور و کوہکن میں
سنائیں غم کی کسے کہانی ہمیں تو اپنے ستا رہے ہیں
ہمیشہ صبح ومسا وہ دل پر ستم کے خنجر چلا رہے ہیں
نہ کوئی انگلش نہ کوئی جرمن نہ کوئی رشین نہ کوئی ٹرکی
مٹانے والے ہیں اپنے ہندی جو آج ہم کو مٹا رہے ہیں
چلو چلو یاروں رنگ تھیٹر دکھائیں تم کو وہاں پر لبرل
جو چند ٹکڑوں پہ سیم و زر کے نیا تماشہ دکھا رہے ہیں
بہار آئی شورشٰ جنون فتنہ ساماں کی
الٰہی خیرکرنا تو مِرے زیب و گریباں کی
صحیح جذبات حریّت کہیں مٹنے سے مٹتے ہیں
عبث ہیں دھمکیاں دار و رسن کی اور زِنداں کی
وہ گُلشن جو کبھی آزاد تھا گُزرے زمانے میں
میں ہوں شاخِ شکستہ اب اُسی اُجڑے گُلستاں کی