آہ یہ دور کہ جس میں لب و رخسار بِکے
دستِ فطرت کے بنائے ہوئے شہکار بکے
دل کے جذبات بکے ذہن کے افکار بکے
سچ تو یہ ہے کہ ہر اک عہد میں فنکار بکے
عصرِ حاضر میں کوئی چیز بھی انمول نہیں
عشق کی آن بکے،۔ حسن کا پندار بکے
آہ یہ دور کہ جس میں لب و رخسار بِکے
دستِ فطرت کے بنائے ہوئے شہکار بکے
دل کے جذبات بکے ذہن کے افکار بکے
سچ تو یہ ہے کہ ہر اک عہد میں فنکار بکے
عصرِ حاضر میں کوئی چیز بھی انمول نہیں
عشق کی آن بکے،۔ حسن کا پندار بکے
شدتِ شوق اثر خیز ہے جادو کی طرح
دل کی دھڑکن کی بھی آواز ہے گھنگھرو کی طرح
میں وہ دیوانۂ حالات ہوں صحرا صحرا
جو پھرا کرتا ہے بھٹکے ہوئے آہو کی طرح
جانے کس رنگ میں آئی ہے بہاراں اب کے
پھول بھی زخم سا شبنم بھی ہے آنسو کی طرح
غیر ممکن ہے کہ مٹ جائے صنم کی صورت
دل کا یہ نقش نہیں نقشِ قدم کی صورت
رات بیمار پہ بھاری ہے کہیں تارِ نفس
ٹوٹ جائے نہ تِرے قول و قسم کی صورت
مے کشو! خوب پیو اتنا مگر ہوش رہے
جام چھلکے نہ کبھی دیدۂ نم کی صورت
راہرو چپ ہیں راہبر خاموش
کیسے گزرے گا یہ سفر خاموش
کوئی ہنگامۂ حیات نہیں
رات خاموش ہے سحر خاموش
زندگی کو کہاں تلاش کریں
کوچہ کوچہ نگر نگر خاموش
آج پھر سر مقتل دے کے خود لہو ہم نے
تیغِ دستِ قاتل کی رکھ لی آبرو ہم نے
جان غنچہ و لالہ روح رنگ و بو ہم نے
آپ کو بنایا ہے کتنا خوبرو ہم نے
جب بھی لطف ساقی میں فرق آتے دیکھا ہے
بڑھ کے توڑ ڈالے ہیں ساغر و سبو ہم نے