Saturday, 11 September 2021

غیر ممکن ہے کہ مٹ جائے صنم کی صورت

 غیر ممکن ہے کہ مٹ جائے صنم کی صورت

دل کا یہ نقش نہیں نقشِ قدم کی صورت

رات بیمار پہ بھاری ہے کہیں تارِ نفس

ٹوٹ جائے نہ تِرے قول و قسم کی صورت

مے کشو! خوب پیو اتنا مگر ہوش رہے

جام چھلکے نہ کبھی دیدۂ نم کی صورت

ہم سا بد بخت زمانے میں کوئی کیا ہو گا

ہم کو خوشیاں بھی ملیں درد و الم کی صورت

کون ہے جس سے ہمیں پیار کے دو بول ملیں

آج کے لوگ ہیں پتھر کے صنم کی صورت

فکر و احساس کی آنچوں سے پگھل کر واحد

مثلِ شمشیر ہوئی اپنے قلم کی صورت


واحد پریمی

No comments:

Post a Comment