Saturday, 11 September 2021

دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم

 دانستہ کر کے ترکِ سفر رو پڑے ہیں ہم

کس کو ہمارے غم کی خبر رو پڑے ہیں ہم

سمجھے تھے اہلِ بزم کہ ہم مسکرائیں گے

یہ بھی ہے اک فریبِ نظر رو پڑے ہیں ہم

آنکھوں کے سامنے وہی منزل ہے دار کی 

یاد آئی تیری راہ گزر، رو پڑے ہیں ہم 

فصلِ بہار آئی تو یہ بھی ستم ہوا 

ہنسنے لگے ہیں زخمِ جگر رو پڑے ہیں ہم 

کیا کیا امیدیں لے کے گزاری تھی شامِ غم 

دیکھا مگر جو رنگِ سحر رو پڑے ہیں ہم 

اب تاج مل گیا ہے ہمیں منصبِ حیات 

ہے انتہا خوشی کی مگر رو پڑے ہیں ہم 


فاطمہ تاج

No comments:

Post a Comment