Saturday, 11 September 2021

ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے

 ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے

وہ مجھ کو تکتا رہا اور اشارے بنتے گئے

خراب حالوں کو دھتکارتی رہی دنیا

خرابیوں کے خرابے ہمارے بنتے گئے

ہمارے دم سے فروزاں ہوئی ہے رات کہ ہم

اچھالتے رہے آنسو، ستارے بنتے گئے

ہمارا بخت بھی جیسے تمہارے ساتھ گیا

تمہارے بعد تو نفعے خسارے بنتے گئے

یہ لوگ، روشنیاں قتل کرنے والے لوگ

ہمارے بن نہ سکے تو تمہارے بنتے گئے

ہر ایک ظلم کا ردِ عمل تو ہوتا ہے

زبانیں کٹتی رہیں اور نعرے بنتے گئے


راکب مختار

No comments:

Post a Comment