ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے
وہ مجھ کو تکتا رہا اور اشارے بنتے گئے
خراب حالوں کو دھتکارتی رہی دنیا
خرابیوں کے خرابے ہمارے بنتے گئے
ہمارے دم سے فروزاں ہوئی ہے رات کہ ہم
اچھالتے رہے آنسو، ستارے بنتے گئے
ہمارا بخت بھی جیسے تمہارے ساتھ گیا
تمہارے بعد تو نفعے خسارے بنتے گئے
یہ لوگ، روشنیاں قتل کرنے والے لوگ
ہمارے بن نہ سکے تو تمہارے بنتے گئے
ہر ایک ظلم کا ردِ عمل تو ہوتا ہے
زبانیں کٹتی رہیں اور نعرے بنتے گئے
راکب مختار
No comments:
Post a Comment