محوِ نیند کیا جانے کہ تعبیر کیسی ہے
غم جھیل کے جانا کہ یہ تاثیر کیسی ہے
بِن سائے یہ گزری میری ذاتِ بے نشاں
بِن روح یہ بے جان سی تصویر کیسی ہے
چلتی ہے زار زار اِس قلبِ مضطرب پہ
عجب یہ تیری یادوں کی شمشیر کیسی ہے
گِرہ لگا، کہ ڈور کہیں اُکھڑ نہ جائے
تیرے باج چلتی سانسوں کی زنجیر کیسی ہے
کیا بات ہے کہ روح جسم چھوڑتی نہیں
عزرائیل بتا مجھ کو تاخیر کیسی ہے
شب آج کی تھا وصل، ذاتِ متصلِ قلب
تبھی تو رات لگتی گھمبیر کیسی ہے
نگاہیں منتظر ہیں تیری دید کی
کہ بے خبر ہیں وہ، میری جاگیر کیسی ہے
ادریس بابر
No comments:
Post a Comment