Saturday, 11 September 2021

تم ڈرایا نہ کرو یوں مجھے زندانوں سے

تم ڈرایا نہ کرو یوں مجھے زندانوں سے

میں ہوں مجنوں مِری نسبت ہے بیابانوں سے

بیج نفرت کے یہاں بوئے گئے ہیں ورنہ

اتنی وحشت نہیں ہوتی تجھے انسانوں سے

اپنا رشتہ ہے بہت دار و رسن سے گہرا

سر کٹانے کی نہ باتیں کرو دیوانوں سے

ہم کہ اسلاف کی جرأت کو بھلا بیٹھے ہیں

قوم اپنی کبھی ڈرتی نہ تھی طوفانوں سے

رسم شبیرؑ کوئی پھر سے ادا کر آیا

ورنہ اٹھتا یہ دھواں کیسے عزاخانوں سے

شمع خود جلتی ہے یاتجھ کو جلانے کے لیے

ہو اجازت تو میں پوچھوں یہی پروانوں سے

یہ غریبی کا شجر کس نے لگایا ہے یہاں

پوچھنا ہے یہ مجھے وقت کے سلطانوں سے

ہم غریبوں کو اٹھانے نہ دیا سر تو کیا

عزم اونچا ہے مگر آپ کے ایوانوں سے

اس نے اپنوں کو بھی چھوڑا تھا سرِ رہ تنہا

جو بڑھاتا ہے مراسم یہاں بے گانوں سے

زخم دل کے نہ کھرچ، حال دلِ زار سنا

کھیلتا ہے کوئی ایسے نہیں ارمانوں سے

اب نہیں اشک بہاتا شبِ ہجراں میں کوٸی

گر پڑے سوکھے ہوئے پھول جو گلدانوں سے

بے وفا ہیں وہ رئیس، ان سے گِلہ کیا کرنا

رکھ بتوں سے کوئی امید نہ بت خانوں سے


احمد رئیس کشمیری

No comments:

Post a Comment