Sunday, 12 September 2021

زندگی بے اماں نہ ہو جائے

 زندگی بے اماں نہ ہو جائے

سارا کچھ داستاں نہ ہو جائے

تُو جو نکلے کسی سفر پہ ہنوز

ساتھ تیرے جہاں نہ ہو جائے

وصل در پیش ہے مجھے اُس کا

یہ حقیقت گُماں نہ ہو جائے

وہ پلاتا ہے آنکھ سے مجھ کو

یار پیرِ مغاں نہ ہو جائے

لوح پر لفظ نقش کرتی ہوں

یہ ہنر رائیگاں نہ ہو جائے

اُس کی زُلفوں کےسائے سے نکلوں

یہ مرا سائباں نہ ہو جائے

وہ قدم خاک پر پڑے جو کرن

یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے


کرن ہاشمی

No comments:

Post a Comment