زندگی بے اماں نہ ہو جائے
سارا کچھ داستاں نہ ہو جائے
تُو جو نکلے کسی سفر پہ ہنوز
ساتھ تیرے جہاں نہ ہو جائے
وصل در پیش ہے مجھے اُس کا
یہ حقیقت گُماں نہ ہو جائے
وہ پلاتا ہے آنکھ سے مجھ کو
یار پیرِ مغاں نہ ہو جائے
لوح پر لفظ نقش کرتی ہوں
یہ ہنر رائیگاں نہ ہو جائے
اُس کی زُلفوں کےسائے سے نکلوں
یہ مرا سائباں نہ ہو جائے
وہ قدم خاک پر پڑے جو کرن
یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے
کرن ہاشمی
No comments:
Post a Comment