Sunday, 12 September 2021

دل میں جو ہے گلہ ابھی کر دے

 دل میں جو ہے گِلہ ابھی کر دے

بات کھل کے ہنسی خوشی کر دے

میری آنکھوں سے یوں ملا آنکھیں

ان اندھیروں میں روشنی کر دے

خود سے آگے نکل رہا ہوں میں

کام مشکل ہے بہتری کر دے

وہ پرندہ عزیز ہے جو مجھے

اس کے آنے کی مخبری کر دے

سچ اگلنے لگا ہوں میں شاہد

تُو ملاقات ملتوی کر دے


شاہد اقبال

No comments:

Post a Comment