وہ ثواب تھا کہ عذاب تھا
یا گئے دنوں کا حساب تھا
مِرے اشک اس کو مٹا گئے
سرِ آب وہ جو حباب تھا
وہ جو خوش نما تھا حسین گل
مِرے موسموں کا گلاب تھا
مجھے بعد میں یہ پتہ چلا
مِری دید کا وہ سراب تھا
مِری چاندنی تھی خفا خفا
مِرا چاند زیرِ عتاب تھا
کبھی آنکھ سے وہ رہا پرے
کبھی درمیاں کہ سحاب تھا
نہ کوئی نشہ نہ کوئی مہک
نہ کوئی کہ خانہ خراب تھا
اقبال شاہ
No comments:
Post a Comment